صحیح بخاری ۔ جلد اول ۔ جنازوں کا بیان ۔ حدیث 1192

میت کے پاس جب وہ کفن میں رکھ دیا گیا ہو موت کے بعد جانے کا حکم ۔

راوی: محمد بن بشار , غندر , شعبہ محمد بن منکدر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَکْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ أَبْکِي وَيَنْهَوْنِي عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ تَبْکِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْکِينَ أَوْ لَا تَبْکِينَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِکَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّی رَفَعْتُمُوهُ تَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

محمد بن بشار، غندر، شعبہ محمد بن منکدر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ جب میرے والد قتل کئے گئے تو میں کپڑا ان کے چہرے سے ہٹانے لگا اور رونے لگا اور لوگ مجھے اس سے منع کر رہے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس سے منع کر رہے تھے، تو میری پھوپھی فاطمہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روؤ یا نہ روؤ فرشتے اپنے پروں سے ان پر سایہ کئے رہے یہاں تک کہ تم نے اٹھالیا ابن جریج نے ان کے متابع حدیث روایت کی کہ مجھ سے ابن منکدر نے بیان کیا انہوں نے جابر سے سنا۔

Narrated Jabir bin 'Abdullah :
When my father was martyred, I lifted the sheet from his face and wept and the people forbade me to do so but the Prophet did not forbid me. Then my aunt Fatima began weeping and the Prophet said, "It is all the same whether you weep or not. The angels were shading him continuously with their wings till you shifted him (from the field). "
________________________________________

یہ حدیث شیئر کریں