سنن ابوداؤد ۔ جلد دوم ۔ فرائض کا بیان ۔ حدیث 1132

ذوی الارحام کی میراث کا بیان

راوی: حفص بن عمر , شعبہ , بدیل , علی بن ابی طلحہ , راشد بن سعد , ابوعامر , مقدام (بن معدیکرب)

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ عَنْ الْمِقْدَامِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَکَ کَلًّا فَإِلَيَّ وَرُبَّمَا قَالَ إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ لَهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ

حفص بن عمر، شعبہ، بدیل، علی بن ابی طلحہ، راشد بن سعد، ابوعامر، حضرت مقدام (بن معدیکرب) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرض اور بال بچے چھوڑ کر مر جائے تو اس کی (قرض کی ادائیگی اور بال بچوں کی کفالت کی) ذمہ داری (بذریعہ بیت المال) میری ہے۔ اور کبھی یوں فرمایا کہ۔ اس کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ (نیز فرمایا) جو شخص مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث میں ہوں اس کی طرف سے (واجبات کی) ادائیگی میں کروں گا اور اس کا وارث بھی میں ہوں گا۔ اسی طرح ماموں اس (بھانجے کے مال) کا وارث ہوگا جس کا کوئی دوسرا وارث نہیں وہی اس کی ذمہ داریوں کو ادا کرے گا اور وہی اس کا ترکہ پائے گا

Narrated Al-Miqdam al-Kindi:
The Prophet (peace_be_upon_him) said: If anyone leaves a debt or a helpless family I shall be responsible-and sometimes the narrator said: Allah and His Apostle will be responsible-but if anyone leaves property, it goes to his heirs. I am the heirs of him who has none, paying blood-wit for him and inheriting from him; and a maternal uncle is the heir of him who has none, paying blood-wit for him and inheriting from him.

یہ حدیث شیئر کریں