موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب مساقات کے بیان میں ۔ حدیث 1296

مساقات کا بیان

راوی:

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَهُودِ خَيْبَرَ يَوْمَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ أُقِرُّكُمْ فِيهَا مَا أَقَرَّكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أَنَّ الثَّمَرَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ ثُمَّ يَقُولُ إِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ فَلِيَ فَكَانُوا يَأْخُذُونَهُ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبیر کے یہودیوں سے جس دن خبیر فتح ہوا جو تم کو اللہ نے دیا ہے اس پر میں تہیں برقرار رکھوں گا اس شرط سے کہ جتنے پھل یہاں پیدا ہوتے ہیں وہ ہم میں تم میں مشترک ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواضہ کو بھیجتے تھے وہ درختوں کو دیکھ کر ان کے پھلوں کا اندازہ کرتے تھے اگر تم چاہو تو تم ان پھولوں کو لے لو اور جو اندازہ ہوا ہے اس کا آدھا ہم کو دیدو ہم تم کو اس اندازے کے آدھے پھل دیں گے یہود خود پھل لے لیا کرتے ۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to the jews of Khaybar on the day of the conquest of Khaybar, "I confirm you in it as long as Allah, the Mighty, the Majestic, establishes you in it, provided that the fruits are divided between us and you." Said continued, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to send Abdullah ibn Rawaha, to assess the division of the fruit crop between him and them, and he would say, 'If you wish, you can buy it back, and if you wish, it is mine.' They would take it."

یہ حدیث شیئر کریں