موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب رہن کے بیان میں یعنی گروی رکھنے کے بیان میں ۔ حدیث 1320

جانور کو رہن رکھنے کا بیان

راوی:

بَاب الْقَضَاءِ فِي الرَّهْنِ مِنْ الْحَيَوَانِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا فِي الرَّهْنِ أَنَّ مَا كَانَ مِنْ أَمْرٍ يُعْرَفُ هَلَاكُهُ مِنْ أَرْضٍ أَوْ دَارٍ أَوْ حَيَوَانٍ فَهَلَكَ فِي يَدِ الْمُرْتَهِنِ وَعُلِمَ هَلَاكُهُ فَهُوَ مِنْ الرَّاهِنِ وَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ مِنْ حَقِّ الْمُرْتَهِنِ شَيْئًا وَمَا كَانَ مِنْ رَهْنٍ يَهْلِكُ فِي يَدِ الْمُرْتَهِنِ فَلَا يُعْلَمُ هَلَاكُهُ إِلَّا بِقَوْلِهِ فَهُوَ مِنْ الْمُرْتَهِنِ وَهُوَ لِقِيمَتِهِ ضَامِنٌ يُقَالُ لَهُ صِفْهُ فَإِذَا وَصَفَهُ أُحْلِفَ عَلَى صِفَتِهِ وَتَسْمِيَةِ مَالِهِ فِيهِ ثُمَّ يُقَوِّمُهُ أَهْلُ الْبَصَرِ بِذَلِكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَضْلٌ عَمَّا سَمَّى فِيهِ الْمُرْتَهِنُ أَخَذَهُ الرَّاهِنُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا سَمَّى أُحْلِفَ الرَّاهِنُ عَلَى مَا سَمَّى الْمُرْتَهِنُ وَبَطَلَ عَنْهُ الْفَضْلُ الَّذِي سَمَّى الْمُرْتَهِنُ فَوْقَ قِيمَةِ الرَّهْنِ وَإِنْ أَبَى الرَّاهِنُ أَنْ يَحْلِفَ أُعْطِيَ الْمُرْتَهِنُ مَا فَضَلَ بَعْدَ قِيمَةِ الرَّهْنِ فَإِنْ قَالَ الْمُرْتَهِنُ لَا عِلْمَ لِي بِقِيمَةِ الرَّهْنِ حُلِّفَ الرَّاهِنُ عَلَى صِفَةِ الرَّهْنِ وَكَانَ ذَلِكَ لَهُ إِذَا جَاءَ بِالْأَمْرِ الَّذِي لَا يُسْتَنْكَرُ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ إِذَا قَبَضَ الْمُرْتَهِنُ الرَّهْنَ وَلَمْ يَضَعْهُ عَلَى يَدَيْ غَيْرِهِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ شئے مرہوں اگر ایسی ہو جس کا تلف ہونا معلوم ہوجائے جیسے زمین اور گھر اور جانور تو اس صورت میں شئے مرہوں کے تلف ہونے سے مرتہن کا کچھ حق کم نہ ہوگا بلکہ راہن کا نقصان ہوگا اور جو شئے مرہوں ایسی ہو جس کا تلف ہوناصرف مرتہن کے کہنے سے معلوم ہو (جیسے سونا چاندی وغیرہ) تو مرتہن اس کی قیمت کا ضامن ہوگا (جس صورت میں گواہ نہ رکھتا ہو اس کے تلف ہونے کا) اب اگر راہن اور مرتہن زر رہن میں اختلاف کریں تو مرتہن سے کہا جائے گا تو خلفاًشئے مرہوں کے اوصاف اور زررہن کو بیان کر جب وہ بیان کرے گا تو نگاہ والے لوگ اس شئے کی قیمت مرتہن نے جو اوصاف بیان کئے ہیں ان کے لحاظ سے لگائیں گے اگر قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو رہن جس قدر زیادہ ہے مرتہن سے وصول کرلے گا اگر قیمت زر رہن سے کم ہو تو راہن سے حلف لیں گے اگر وہ حلف کرلے گا تو جس قدر مرتہن نے زر رہن قیمت سے زیادہ بیان کیا ہے وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا اور جو حلف سے انکار کرے تو اس قدر مرتہن کو ادا کرے گا اگر مرتہن نے کہا میں شئے مرہوں کی قیمت نہیں جانتا تو راہن سے شئے مرہوں کے اوصاف پر حلف لے کر اس کے بیان پر فیصلہ کریں گے جب کہ وہ کوئی امرخلاف واقعہ بیان نہ کرے۔
کہا مالک نے اگر ایک شئے دو آدمیوں کے پاس رہن ہو تو ایک مرتہن اپنے دین کا تقاضا کرے اور شئے مرہوں کو بیچنا چاہے اور ایک مرتہن راہن کو مہلت دے اگر شئے مرہوں ایسی ہے کہ اس کے نصف بیچ ڈالنے سے دوسرے مرتہن کا نقصان نہیں ہوتا تو آدھی بیچ کر ایک مرتہن کا دین ادا کردیں گے اور جو نقصان ہوتا ہے تو کل شئے مرہوں کو بیچ کر جو مرتہنتقاضا کرتا ہے اس کو نصف دے دیں گے اور جس مرتہن نے مہلت دی ہے وہ اگر خوشی ہے چاہے تو نصف ثمن کو راہن کے حوالہ کر دے نہیں تو حلف کرے میں نے اس واسطے مہلت دی تھی کہ شئے مرہوں اپنے حال پر میرے پاس رہے پھر اس کا حق اسی وقت ادا کردیا جائے۔
کہا مالک نے اگر غلام کو رہن رکھے تو غلام کا مال راہن لے لے گا مگر جب مرتہن شرط کرلے کہ اس کا مال بھی اس کے ساتھ رہن رہے۔

Yahya said that he had heard Malik say, "The undisputed way of doing things in our community concerning pledges is that in cases where land or a house or an animal are known to have been destroyed whilst in the possession of the broker of the pledge, and the circumstances of the loss are known, the loss is against the pledger. There is no deduction made from what is due to the broker at all. Any pledge which perishes in the possession of the broker and the circumstances of its loss are only known by his word, the loss is against the broker and he is liable for its value. He is asked to describe whatever was destroyed and then he is made to take an oath about that description and what he loaned on security for it. "Then people of discernment evaluate the description. If the pledge was worth more than what the broker loaned, the pledger takes the extra. If the assessed value of the pledge is less than what he was loaned, the pledger is made to take an oath as to what the broker loaned and he does not have to pay the extra which the broker loaned above the assessed value of the pledge. If the pledger refuses to take an oath, he has to give the broker the extra above the assessed value of the pledge. If the broker says that he doesn't know the value of the pledge, the pledger is made to take an oath on the description of the pledge and that is his if he brings a matter which is not disapproved of."
Malik said, "All this applies when the broker takes the pledge and does not put it in the hands of another."

یہ حدیث شیئر کریں