موطا امام مالک ۔ جلد اول ۔ کتاب شکار کے بیان میں ۔ حدیث 958

جن جانوروں کا کھانا مکروہ ہے ان کا بیان

راوی:

عَنْ مَالِک أَنَّ أَحْسَنَ مَا سَمِعَ فِي الْخَيْلِ وَالْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ أَنَّهَا لَا تُؤْکَلُ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَالَ وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْکَبُوهَا وَزِينَةً وَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِي الْأَنْعَامِ لِتَرْکَبُوا مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْکُلُونَ وَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لِيَذْکُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَی مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ قَالَ مَالِک و سَمِعْت أَنَّ الْبَائِسَ هُوَ الْفَقِيرُ وَأَنَّ الْمُعْتَرَّ هُوَ الزَّائِرُ قَالَ مَالِک فَذَکَرَ اللَّهُ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِلرُّکُوبِ وَالزِّينَةِ وَذَکَرَ الْأَنْعَامَ لِلرُّکُوبِ وَالْأَکْلِ قَالَ مَالِک وَالْقَانِعُ هُوَ الْفَقِيرُ أَيْضًا

کہا مالک نے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو نہ کھائیں کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا " اور پیدا کیا ہم نے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو سواری اور آرائش کے واسطے"، اور فرمایا باقی چوپاؤں کے حق میں "پیدا کیا ہم نے ان کو تاکہ تم ان پر سوار ہو اور ان کو کھاؤ" اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے "تاکہ لیں نام اللہ کا ان چوپاؤں پر جو دیا اللہ نے ان کو سو کھاؤ ان میں سے اور کھلاؤ فقیر اور مانگنے والے کو" ۔

Yahya related to me from Malik that the best of what he had heard about horses, mules, and donkeys was that they were not eaten because Allah, the Blessed, the Exalted,said, "And horses, and mules and asses, for you to ride, and as an adornment. " (Sura 16 ayat 8) . He said, may He be Blessed and Exalted, "In cattle, some of them you ride, and some of them you eat." (Sura 6 ayat 79). He said, the Blessed, the Exalted, "Mention Allah's name over what He has provided you of cattle, and eat of them and feed the beggar (al-qani) and the suppliant (al-mutarr). (Sura 22 ayat 34).
Malik said "Allah mentioned horses, mules, and donkeys for riding and adornment, and He mentioned cattle for riding and eating."
Malik said, "Al-qani also means the poor."

یہ حدیث شیئر کریں