مشکوۃ شریف ۔ جلد اول ۔ جمعہ کا بیان ۔ حدیث 1335

فضائل جمعہ

راوی:

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْیَوْمُ الْمُوْعُوْدُ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ وَالْیَوْمُ الْمَشْھُوْدُ یَوْمُ عَرَفَۃَ وَالشَّاھِدُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَمَا طَلْعَتِ لشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَی یَوْمٍ اَفْضَلَ مِنْہ، فِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یُوْافِقُھَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ یَدْعُوْ اﷲَ بِخَیْرٍ اِلَّا اسْتَجَابَ اﷲُ لَہ، وَلَا یَسْتَعِیْذُ مِنْ شَیْ ءٌ اِلَّا اَعَاذَہ، مِنْہ، رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لَا یُعْرَفُ اِلَّامِنْ حَدِیْثِ مُوْسٰی ابْنِ عُبَیْدَۃَ وَھُوَ یُضَعَّفُ۔

" اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن موعود قیامت کا دن ہے مشہور عرفہ کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن ہے۔ آفتاب کسی ایسے دن طلوع و غروب نہیں ہوتا جو جمعہ کے دن سے افضل ہو (یعنی جمعہ کا دن سب سے افضل ہے ) اس دن ایک ایسی ساعت آتی ہے جسے اگر کوئی بندہ مومن پالے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے بھلائی مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور بھلائی دیتا ہے یا جس چیز سے پناہ مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور پناہ دیتا ہے ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے کیونکہ ایک آدمی موسی بن عبیدہ کے اور کسی سے (اس کا نقل ہونا) معلوم نہیں ہوتا اور یہ (موسی محدثین کے ہاں روایت میں) ضعیف شمار کئے جاتے ہیں ۔" (احمد بن حنبل و جامع ترمذی )

تشریح
سورت بروج کی آیت ہے :
آیت (وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ Ą وَشَاهِدٍ وَّمَشْهُوْدٍ Ǽ ) 85۔ البروج : 2)
" اور قسم ہے اس دن کی جس کا وعدہ ہے اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی۔"
اس آیت کی تفسیر یہ حدیث یہاں کر رہی ہے کہ" یوم موعود" سے مراد قیامت کا دن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے آنے کی خبر دی ہے اور مومنوں سے اس دن کے آنے کے بعد بہشت کی نعمتوں کا وعدہ کیا ہے۔
" شاہد" سے مراد جمعے کا دن ہے کہ جو مخلوق کے پاس حاضر ہوتا ہے اور ہر ہفتہ آتا رہتا ہے۔
" مشہود" سے مراد عرفہ کا دن ہے کہ تمام عالم سے مسلمان اور ملائکۃ اللہ اس دن حاضر ہوتے ہیں اور ایک جگہ جمعہ ہوتے اگرچہ امام ترمذی نے کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی موسی کو روایت حدیث کے سلسلے میں ضعیف کہا جاتا ہے لیکن یہ حدیث اپنی جگہ پر اس لئے قابل اسناد و قابل قبول ہے کہ اس متون کی دوسری حدیثیں جو دوسرے رایوں سے مروی ہیں اس حدیث کو تقویت دیتی ہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں