مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ افعال حج کا بیان ۔ حدیث 1042

حج عمر بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے

راوی:

عن أبي هريرة قال : : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : " يا أيها الناس قد فرض عليكم الحج فحجوا " فقال رجل : أكل عام يا رسول الله ؟ فسكت حتى قالها ثلاثا فقال : " لو قلت : نعم لوجبت ولما استطعتم " ثم قال : ذروني ما تركتكم فإنما هلك من كان قبلكم بكثرة سؤالهم واختلافهم على أنبيائهم فإذا أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم وإذا نهيتكم عن شيء فدعوه " . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لھذا تم حج کرو یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم ہر سال حج کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ یہی بات کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا ہوں تو یقینا حج ہر سال کے لئے فرض ہو جاتا اور تم ہر سال حج کرنے پر قادر نہیں ہو سکتے تھے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑوں تم مجھے چھوڑ دو (یعنی جو کچھ میں نہ کہا کروں مجھ سے مت پوچھا کرو) کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں یعنی یہود و نصاریٰ وہ اسی سبب سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء سے پوچھتے اور ان سے اختلاف کرتے تھے (جیسا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں منقول ہے ) لہٰذا جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اس میں سے جو کچھ تم کرنے کی طاقت رکھتے ہو کرو اور جب میں تمہیں کسی بات سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دو۔ (مسلم)

تشریح
اللہ تعالیٰ نے جب حج کی فرضیت کا فرمان نازل فرمایا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو امت کے اوپر نافذ کرنے کے لئے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ حج کریں چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے حج کی فرضیت بیان فرما رہے تھے اور انہیں حج کرنے کا حکم دے رہے تھے تو ایک صحابی جن کا نام اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا پوچھ بیٹھے کہ حج ہر سال کیا جائے گا؟ وہ یہ سمجھے کہ جس طرح دیگر عبادتیں یعنی نماز ، روزہ ، زکوۃ بار بار ادا کی جاتی ہیں اسی طرح یہ حج بھی مکرر ہی ہو گا اسی لئے انہوں نے یہ سوال کیا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات ناگوار ہوئی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے تو تنبیہا سکوت اختیار فرمایا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ جب انہوں نے کئی بار پوچھا تو آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا کہ اگر میں اس سوال کے جواب میں ہاں کہہ دیتا تو یقینا ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا کیونکہ میں یہ جواب اللہ تعالیٰ کے حکم کے بموجب دیتا بغیر اس کے حکم سے میری زبان سے کوئی تشریعی بات نہیں نکلتی ، اور اگر ہر سال حج فرض ہو جاتا تو تم میں اتنی طاقت نہ ہوتی کہ ہر سال اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہوتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متنبہ فرمایا کہ کسی بھی دینی حکم کو مجھ پر چھوڑ دو ، جب میں کسی فعل کا حکم دوں تو مجھ سے یہ نہ پوچھوں کہ یہ فعل کتنا ہے اور کیسا ہے جب تک میں خود یہ بیان نہ کروں کہ یہ فعل کتنا کیا جائے اور کس طرح کیا جائے۔ میں جس طرح کہوں تم اسی طرح ادا کرو۔ اگر کسی فعل کے بارے میں بلا قید و تعین اعداد کے مطلق حکم کروں تو اس حکم کی اسی طرح بجا آوری کرو اور اگر یہ بیان کروں کہ اس فعل کو اتنی بار اور اس طرح کرو تو اسے اتنی ہی بار اور اسی طرح کرو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں دنیا میں اسی لئے آیا ہوں کہ تم تک اسلام کے احکام پوری وضاحت کے ساتھ پہنچا دوں اور شریعت کو بیان کر دوں جو بات جس طرح ہوتی ہے اسے اسی طرح بیان کر دیتا ہوں۔ تمہارے سوال کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
پھر آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احکام کی بجا آوری کے سلسلے میں تائید و مبالغہ کے طور پر فرمایا کہ فا تو ا منہ ما استطعتم (اس میں سے جو کچھ تم کرنے کی طاقت رکھتے ہو کرو) یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام پر عمل کرنے کی تم جتنی بھی طاقت رکھتے ہو اس کے مطابق عمل کرو یا پھر یہ کہ اس جملے کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رفع حرج پر اشارہ فرمایا کہ مثلاً نماز کے بعض شرائط و ارکان ادائیگی سے تم اگر عاجز ہو تو جس قدر ہو سکے اسی قدر کرو، جو تم سے نہ ہو سکے اسے چھوڑ دو جیسے اگر تم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکو تو بیٹھ کر نماز پڑھو، اگر بیٹھ کر پڑھنے سے بھی عاجز ہو تو لیٹے ہی لیٹے پڑھو مگر پڑھو ضرور، اسی پر دوسرے احکام و اعمال کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں