مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ حجۃ الوداع کے واقعہ کا بیان ۔ حدیث 1099

حجۃ الوداع کی تفصیل حضرت جابر کی زبانی

راوی:

عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مكث بالمدينة تسع سنين لم يحج ثم أذن في الناس بالحج في العاشرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حاج فقدم المدينة بشر كثير فخرجنا معه حتى إذا أتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس محمد بن أبي بكر فأرسلت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف أصنع ؟ قال : " اغتسلي واستثقري بثوب وأحرمي " فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسجد ثم ركب القصواء حتى إذا استوت به ناقته على البيداء أهل بالتوحيد " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك " . قال جابر : لسنا ننوي إلا الحج لسنا نعرف العمرة حتى إذا أتينا البيت معه استلم الركن فطاف سبعا فرمل ثلاثا ومشى أربعا ثم تقدم إلى مقام إبراهيم فقرأ : ( واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى )
فصلى ركعتين فجعل المقام بينه وبين البيت وفي رواية : أنه قرأ في الركعتين : ( قل هو الله أحد و ( قل يا أيها الكافرون )
ثم رجع إلى الركن فاستلمه ثم خرج من الباب إلى الصفا فلما دنا من الصفا قرأ : ( إن الصفا والمروة من شعائر الله )
أبدأ بما بدأ الله به فبدأ بالصفا فرقي عليه حتى رأى البيت فاستقبل القبلة فوحد الله وكبره وقال : " لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده " . ثم دعا بين ذلك قال مثل هذا ثلاث مرات ثم نزل ومشى إلى المروة حتى انصبت قدماه في بطن الوادي ثم سعى حتى إذا صعدنا مشى حتى أتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا حتى إذا كان آخر طواف على المروة نادى وهو على المروة والناس تحته فقال : " لو أني استقبلت من أمري ما استدبرت لم أسق الهدي وجعلتها عمرة فمن كان منكم ليس معه هدي فليحل وليجعلها عمرة " . فقام سراقة بن مالك بن جعشم فقال : يا رسول الله ألعامنا هذا أم لأبد ؟ فشبك رسول الله صلى الله عليه و سلم أصابعه واحدة في الأخرى وقال : " دخلت العمرة في الحج مرتين لا بل لأبد أبد " . وقدم علي من اليمن ببدن النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : " ماذا قلت حين فرضت الحج ؟ " قال : قلت : اللهم إني أهل بما أهل به رسولك قال : " فإن معي الهدي فلا تحل " . قال : فكان جماعة الهدي الذي قدم به علي من اليمن والذي أتى به النبي صلى الله عليه و سلم مائة قال : فحل الناس كلهم وقصروا إلا النبي صلى الله عليه و سلم ومن كان معه من هدي فما كان يوم التروية توجهوا إلى منى فأهلوا بالحج وركب النبي صلى الله عليه و سلم فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس وأمر بقبة من شعر تضرب له بنمرة فسار رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا تشك قريش إلا أنه واقف عند المشعر الحرام كما كانت قريش تصنع في الجاهلية فأجاز رسول الله صلى حتى أتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى إذا زاغت الشمس أمر بالقصواء فرحلت له فأتى بطن الوادي فخطب الناس وقال : " إن دماءكم وأموالكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا ألا كل شيء من أمر الجاهلية تحت قدمي موضوع ودماء الجاهلية موضوعة وإن أول دم أضع من دمائنا دم ابن ربيعة بن الحارث وكان مسترضعا في بني سعد فقتله هذيل وربا الجاهلية موضوع وأول ربا أضع من ربانا ربا عباس بن عبد المطلب فإنه موضوع كله فاتقوا الله في النساء فإنكم أخذتموهن بأمان الله واستحللتم فروجهن بكلمة الله ولكم عليهن أن لا يوطئن فرشكم أحدا تكرهونه فإن فعلن ذلك فاضربوهن ضربا غير مبرح ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف وقد تركت فيكم ما لن تضلوا بعده إن اعتصمتم به كتاب الله وأنتم تسألون عني فما أنتم قائلون ؟ " قالوا : نشهد أنك قد بلغت وأديت ونصحت . فقال بأصبعه السبابة يرفعها إلى السماء وينكتها إلى الناس : " اللهم اشهد اللهم اشهد " ثلاث مرات ثم أذن بلال ثم أقام فصلى الظهر ثم أقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شيئا ثم ركب حتى أتى الموقف فجعل بطن ناقته القصواء إلى الصخرات وجعل حبل المشاة بين يديه واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى غربت الشمس وذهبت الصفرة قليلا حتى غاب القرص وأردف أسامة ودفع حتى أتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء بأذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما شيئا ثم اضطجع حتى طلع الفجر فصلى الفجر حين تبين له الصبح بأذان وإقامة ثم ركب القصواء حتى أتى المشعر الحرام فاستقبل القبلة فدعاه وكبره وهلله ووحده فلم يزل واقفا حتى أسفر جدا فدفع قبل أن تطلع الشمس وأردف الفضل بن عباس حتى أتى بطن محسر فحرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي
تخرج
على الجمرة الكبرى حتى أتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف رمى من بطن الوادي ثم انصرف إلى المنحر فنحر ثلاثا وستين بدنة بيده ثم أعطى عليا فنحر ما غبر وأشركه في هديه ثم أمر من كل بدنة ببضعة فجعلت في قدر فطبخت فأكلا من لحمها وشربا من مرقها ثم ركب رسول الله صلى الله عليه و سلم فأفاض إلى البيت فصلى بمكة الظهر فأتى على بني عبد المطلب يسقون على زمزم فقال : " انزعوا بني عبد المطلب فلولا أن يغلبكم الناس على سقايتكم لنزعت معكم " . فناولوه دلوا فشرب منه . رواه مسلم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں نو برس اس طرح گزارے کہ حج نہیں کیا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرے کئے جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے پھر جب حج کی فرضیت نازل ہوئی تو دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کرایا کہ رسول اللہ حج کا ارادہ رکھتے ہیں جو لوگ حج کے لئے جانا چاہتے ہیں وہ رفاقت کے لئے تیار ہو جائیں اس اعلان کو سن کر مخلوق اللہ کی ایک بہت بڑی تعداد مدینہ میں جمع ہو گئی چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ماہ ذی قعدہ کے ختم ہونے سے پانچ دن پہلے ظہر و عصر کے درمیان مدینہ سے روانہ ہو گئے جب ہم لوگ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے محمد بن ابوبکر پیدا ہوئے۔ اسماء نے کسی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور دریافت کرایا کہ اب میں کیا کروں؟ آیا احرام باندھوں یا نہ باندھوں اور اگر باندھوں تو کس طرح باندھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ غسل کر کے کپڑے کا لنگوٹ باندھوں اور پھر احرام باندھ لو بہر کیف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ میں نماز پڑھی اور قصواء پر کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کا نام تھا سوار ہوئے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر بیداء کے میدان میں کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بآواز بلند تلبیہ کے یہ کلمات کہے :
لبیک اللہم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔ حاضر ہوں تیری خدمت میں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، حاضر ہوں تیری خدمت میں تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں تیری خدمت میں بے شک تعریف اور نعمت تیرے لئے ہے اور بادشاہت بھی تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اس سے پہلے حج ہی کی نیت کیا کرتے تھے اور ہم حج کے مہینوں میں عمرہ سے واقف بھی نہیں تھے بہر کیف جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ پہنچے تو حجر اسود پر ہاتھ رکھا اور اس کو بوسہ دیا اور تین بار رمل یعنی تیز رفتار سے اور اکڑ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا اور چار مرتبہ اپنی رفتار سے یعنی آہستہ آہستہ چل کر طواف کیا اور طواف کے بعد مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور یہ آیت پڑھی۔ (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰه مَ مُصَلًّى) 2۔ البقرۃ : 125) مقام ابراہیم کے اطراف کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ یعنی وہاں نماز پڑھو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ابراہیم اور بیت اللہ کو اپنے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی اور ایک روایت کے مطابق ان دو رکعتوں میں قل ہو اللہ اور قل یا ایہا الکافرون کی قرأت کی پھر حجر اسود کی طرف لوٹے اور اس کو بوسہ دیا اس سے فارغ ہو کر مسجد کے دروازہ یعنی باب الصفا سے نکلے اور صفا پہاڑ کی طرف چلے چنانچہ جب صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی۔ (ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ) بلا شبہ صفا اور مروہ اللہ کے دین کی نشانیوں میں سے ہیں اور فرمایا میں بھی اسی چیز کے ساتھ ابتداء کرتا ہوں۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں پہلے صفا کا ذکر کیا ہے پھر مروہ کا اسی طرح میں بھی پہلے صفا پر چرھتا ہوں پھر مروہ پر چڑھونگا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعی کی ابتداء صفا سے کی اور اس پر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب صفا سے بیت اللہ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی بڑائی بیان کی یعنی لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہا اور یہ کلمات فرمائے۔
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر لا الہ الا اللہ وحدہ انجز وعدہ ونصر عبدہ وہزم الاحزاب وحدہ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا وتنہا ہے اس نے اسلام کا بول بالا کرنے کا اپنا وعدہ پورا کیا اس نے اپنے بندوں کی مدد کی اور کفار کے لشکر کو تنہا شکست دی یعنی غزوہ خندق۔ پھر اس کے درمیان دعا کی اور تین مرتبہ اسی طرح کہا (یعنی پہلے یہ کلمات کہے اور پھر دعا کی اور اسی طرح تین مرتبہ کہا) اس کے بعد صفا سے اترے اور مروہ پہاڑ کی طرف چلے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں قدم چڑھنے لگے (یعنی نشیب سے مروہ کی بلندی پر چڑھنے لگے) تو (دوڑنا موقوف کر کے) آہستہ آہستہ چلنے لگے اور پھر جب مروہ پر پہنچ گئے تو وہی کیا جو صفا پر کیا تھا یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مروہ پر سعی کا اختتام کیا تو لوگوں کو آواز دی در آنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مروہ کے اوپر تھے۔ اور لوگ اس کے نیچے اور فرمایا اگر اپنے بارہ میں مجھے پہلے سے وہ بات معلوم ہوتی جو بعد کو معلوم ہوئی ہے تو ہدی قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہ لاتا اور اپنے حج کو عمرہ کر دیتا لہٰذا تم میں سے جو شخص ہدی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے یعنی حج کا احرام کھول دے اور حج کو عمرہ بنا لے یہ سن کر حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے واسطے یہ حکم اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر فرمایا عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو مرتبہ کہی اور پھر فرمایا نہیں یہ حکم خاص طور پر اسی سال کے لئے نہیں ہے بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ جائز ہے اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ جو یمن کے حاکم مقرر ہو گئے تھے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے قربانی کے واسطے یمن سے اونٹ لے کر آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم نے اپنے اوپر حج لازم کیا تھا تو اس وقت یعنی احرام باندھنے کے وقت کیا کہا تھا؟ تو نے کس چیز کے لئے احرام باندھا تھا اور کیا نیت کی تھی؟ حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے کہا کہ میں نے اس طرح کہا تھا کہ ۔ اللہم انی اہل بنا اہل بہ رسولک۔ یعنی اے اللہ! میں اس چیز کا احرام باندھتا ہوں جس چیز کا احرام تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باندھا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے اور میں عمرے کا احرام باندھے ہوئے ہوں، اس لئے جب تک عمرہ اور حج دونوں سے فارغ نہ ہو جاؤں اس وقت تک احرام سے نہیں نکل سکتا اور چونکہ تم نے وہی نیت کی ہے جو میں نے کی ہے تو تم بھی احرام نہ کھولو۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اونٹ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے قربانی کے واسطے حضرت علی کرم اللہ وجھہ یمن سے لے کر آئے تھے اور وہ اونٹ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنے ہمراہ لائے تھے، سب کی مجموعی تعداد سو تھی۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق سب لوگوں کے کہ جن کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا عمرہ کر کے، احرام کھول دیا اپنے سروں کے بال کٹوا دئیے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور وہ لوگ جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے احرام کی حالت میں رہے پھر جب ترویہ کا دن آیا یعنی ذی الحجہ کی آٹھویں تایخ آئی تو سب لوگ منی کی طرف روانہ ہونے کے لئے تیار ہوئے چنانچہ ان صحابہ نے کہ جو عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد احرام سے نکل آئے تھے حج کا احرام باندھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی آفتاب طلوع ہونے کے بعد سوار ہوئے اور منی پہنچ گئے منی کی مسجد خیف میں ظہر و عصر، مغرب عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھی گئیں اور نویں تاریخ کی فجر کی نماز پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر قیام کیا یہاں تک کہ آفتاب نکل آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وادی نمرہ عرفات میں خیمہ نصب کیا جائے جو بالوں کا بنا ہوا تھا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منی سے عرفات کو روانہ ہوئے قریش کو گمان تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشعر حرام مزدلفہ میں قیام کریں گے جیسا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں حج کے موقعہ پر کیا کرتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ سے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ جو میدان عرفات میں آئے اور وادی نمرہ میں اپنے خیمہ کو کھڑا پایا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں آئے اور قیام کیا یہاں تک کہ جب دوپہر ڈھل گیا تو قصواء کو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کا نام تھا، لانے کا حکم دیا جب قصواء آ گئی تو اس پر پالان کس دیا گیا ور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہو کر وادی نمرہ میں تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔" لوگو! تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن عرفہ میں تمہارے اس مہینہ ذی الحجہ میں اور تمہارے اس شہر (مکہ میں حرام ہیں یعنی جس طرح تم عرفہ کے دن ذی الحجہ کے مہینہ میں اور مکہ مکرمہ قتل و غارت گری اور لوٹ مار کو حرام سمجھتے ہو اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اور ہر جگہ ایک مسلمان کی جان و مال دوسرے پر حرام ہے لہٰذا تم میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ کسی کا خون نہ کر کسی کا مال چوری و دغابازی سے نہ کھا جائے اور کسی کو کسی جانی اور مالی تکلیف و مصیبت میں بھی مبتلا نہ کرے، یاد رکھو! زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے ہے اور پامال و بے قدر یعنی موقوف باطل ہے لہٰذا اسلام سے پہلے جس نے جو کچھ کیا میں نے وہ سب معاف کیا اور زمانہ جاہلیت کے تمام رسم و رواج کو موقوف و ختم کر دیا زمانہ جاہلیت کے خون معاف کر دیئے گئے ہیں لہٰذا زمانہ جاہلیت میں اگر کسی نے کسی کا خون کر دیا تھا تو اب نہ اس کا قصاص ہے نہ دیت اور نہ کفارہ بلکہ اس کی معافی کا اعلان ہے اور سب سے پہلا خون جسے میں اپنے خونوں سے معاف کرتا ہوں ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے۔ جو ایک شیر خوار بچہ تھا اور قبیلہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور ہزیل نے اس کو مار ڈالا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا سود معاف کر دیا گیا ہے اور سب سے پہلا سود جسے میں اپنے سودوں سے معاف کرتا ہوں عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے لہٰذا وہ زمانہ جاہلیت کا سود ہے لہٰذا وہ زمانہ جاہلیت کا سود بالکل معاف کر دیا گیا ہے ۔ لوگو! عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو، تم نے ان کو اللہ کی امان کے ساتھ لیا ہے یعنی ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان کو عزت و احترام کے ساتھ رکھنے کا جو عہد اللہ نے تم سے لیا ہے یا اس کا عہد جو تم نے اللہ سے کیا ہے اسی کے مطابق عورتیں تمہارے پاس آئی ہیں، اور ان کی شرم گاہوں کو اللہ کے حکم سے (یعنی فانکحوا کے مطابق رشتہ زن و شو قائم کر کے) اپنے لئے حلال بنایا ہے اور عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تم کو ناگوار گزرے یعنی وہ تمہارے گھروں میں کسی کو بھی تمہاری اجازت کے بغیر نہ آنے دیں خواہ وہ مرد ہو یا عورت، پس اگر وہ اس معاملہ میں نافرمانی کریں کہ تمہاری اجازت کے بغیر کسی کو گھر آنے دیں اور ڈانٹ ڈپٹ کے بعد بھی وہ اس سے باز نہ آئیں تو تم اس کو مارو مگر اس طرح نہ مارو جس سے سختی و شدت ظاہر ہو اور انہیں کوئی گزند پہنچ جائے اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کو اپنی استطاعت و حیثیت کے مطابق کھانے پینے کا سامان اور مکان اور کپڑا دو۔ لوگو! میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑتا ہوں جس کو اگر تم مضبوطی سے تھانے رہو گے تو میرے بعد (یا اس کو مضبوطی سے تھامے رہنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد) تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے اور وہ چیز کتاب اللہ ہے اور اے لوگو! میرے بارہ میں تم سے پوچھا جائے گا کہ میں نے منصب رسالت کے فرائض پوری طرح انجام دئیے یا نہیں ؟ اور میں نے دین کے احکام تم تک پہنچا دئیے یا نہیں؟ تو تم کیا جواب دو گے؟ اس موقع پر صحابہ نے (بیک زبان ) کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کو ہم تک پہنچا دیا اپنے فرض کو ادا کر دیا اور ہماری خیر خواہی کی اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا بایں طور کہ اسے آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر لوگوں کی طرف جھکا کر تین مرتبہ یہ کہا کہ اے اللہ! اپنے بندوں کے اس اقرار اور اعتراف پر تو گواہ رہ اے اللہ! تو گواہ رہ۔
اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی اور ظہر کی نماز پڑھی گئی پھر دوبارہ اقامت کہی گئی اور عصر کی نماز ہوئی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی چیز یعنی سنت و نفل نہیں پڑھی گئی پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور میدان عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ پہنچے وہاں اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ پتھروں کی طرف کیا اور جبل مشاۃ یہ ایک جگہ کا نام ہے اپنے آگے رکھا پھر قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا، زردی بھی تھوڑی سی جاتی رہی اور آفتاب کی ٹکیہ غائب ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور تیز تیز چل کر مزدلفہ آ گئے یہاں ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھیں اور ان دونوں نمازوں کے درمیان اور کچھ نہیں پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی روشنی پھیل جانے پر اذان و اقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹنی پر سوار ہو کر مشعر حرام میں آئے اور وہاں قبلہ رو ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی ۔ تکبیر کہی ۔ لا الہ اللہ پڑھا اور اللہ کی وحدانیت کی یعنی لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ آخر تک پڑھا وہیں کھڑے تکبیر و تہلیل وغیرہ میں مصروف رہے یہاں تک کہ صبح خوب روشن ہو گئی تو سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے چلے اور حضرت فضیل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کیا جب وادی محسر میں پہنچے تو اپنی سواری کو تیز چلانے کے لئے تھوڑی سی حرکت دی اور اس درمیانی راہ پر ہو لئے جو جمرہ کبریٰ کے اوپر نکلتی ہے تا آنکہ آپ اس جمرہ کے پاس پہنچے جو درخت کے قریب ہے اور اس پر سات کنکریں ماریں اس طرح کہ ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے اور وہ کنکریاں باقلہ کے دانہ کے برابر تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کنکریاں نالے یعنی وادی کے درمیان سے ماریں اس کے بعد قربانی کرنے کی جگہ جو منی میں ہے واپس آئے اور یہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے تریسٹھ اونٹ ذبح کئے اور باقی اونٹ حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے سپرد کئے چنانچہ باقی سینتیس اونٹ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذبح کئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا جائے چنانچہ وہ سب گوشت لے کر ایک ہانڈی میں ڈال دیا گیا اور اسے پکایا گیا جب گوشت پک گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قربانی کے اس گوشت میں سے کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہو گئے، وہاں پہنچ کر طواف کیا اور مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی پھر عبدالمطلب کی اولاد یعنی اپنے چچا حضرت عباس اور ان کی اولاد کے پاس تشریف لائے جو زمزم کا پانی پلا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا ۔ عبدالمطلب کی اولاد زمزم کا پانی کھینچو اور پلاؤ کہ یہ بہت ثواب کا کام ہے اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پانی پلانے پر غلبہ پا لیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا ابھی اس بات کا خوف ہے کہ لوگ مجھے پانی کھینچتا دیکھ کر میری اتباع میں خود بھی پانی کھینچنے لگیں گے اور یہاں بہت زیادہ جمع ہو جائیں گے جس کی وجہ سے زمزم کا پانی کھینچنے اور پلانے کی یہ سعادت تمہارے ہاتھ سے چلی جائے گی اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا تو میں خود بھی تم لوگوں کے ساتھ پانی کھنیچتا اور لوگوں کو پلاتا، چنانچہ عبدالمطلب کی اولاد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی کا ایک ڈول دیا جس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پیا۔ (مسلم)

تشریح
حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کتنے آدمی تھے؟ اس بارہ میں مختلف اقوال ہیں چنانچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس حج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نوے ہزار آدمی تھے، بعض حضرات نے ایک لاکھ تیس ہزار اور بعضوں نے اس سے بھی زائد تعداد بیان کی ہے۔ بعض حضرات نے ایک لاکھ تیس ہزار اور بعضوں نے اس سے بھی زائد تعداد بیان کی ہے۔
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب کے نکاح میں تھیں ان کے انتقال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کے نکاح میں آئیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان سے نکاح کیا۔ چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے لئے روانہ ہوئے ہیں تو اس وقت یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صدیق کے نکاح میں تھیں اور ان سے محمد بن ابوبکر پیدا ہوئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو غسل کرنے کی ہدایت اس بات کی دلیل ہے کہ نفاس والی عورت کو احرام کے لئے غسل کرنا مسنون ہے اور یہ غسل نظافت یعنی ستھرائی کے لئے ہوتا ہے طہارت یعنی پاکی کے لئے نہیں، اسی لئے نفاس والی عورت کو تیمم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا اور یہی حکم حائضہ کا بھی ہے نیز ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کہ " اور پھر احرام باندھ لو یعنی احرام کی نیت کرو اور لبیک کہو" سے یہ بات ثابت ہوتی ہوتی ہے کہ نفاس والی عورت کا احرام صحیح ہوتا ہے ۔ چنانچہ اس مسئلہ پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔
" رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ میں نماز پڑھی" کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی سنت دو رکعت نماز پڑھی، اس بارہ میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر میقات میں مسجد ہو تو مسجد ہی میں یہ دو رکتعتیں پڑھنا زیادہ بہتر اور اولیٰ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ پڑھ لے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں، نیز اوقات مکروہہ میں یہ نماز نہ پڑھی جائے ، علماء یہ بھی لکھتے ہیں کہ تحیۃ المسجد کی طرح فرض نماز بھی اس نماز کے قائم مقام ہو جاتی ہے۔
لسنا نعرف العمرۃ (اور ہم عمرہ سے واقف نہیں تھے۔ یہ جملہ در اصل پہلے جملہ لسنا ننوی الا الحج ہم حج ہی کی نیت کیا کرتے تھے) کی تاکید کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان جملوں کی وضاحت یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں یہ معمول تھا کہ لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو بڑا گناہ سمجھتے تھے ، چنانچہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا رد کیا اور حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کا حکم فرمایا اس کی تفصیل آگے آئے گی۔
جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ پہنچے یعنی پہلے ہم ذی طویٰ میں اترے اور رات کو وہیں قیام کیا اور پھر ١٤ذی الحجہ کو نہا دھو کر ثنیہ علیا کی طرف سے یعنی جانب بلند سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور پھر باب السلام کی جانب سے مسجد حرام میں آئے اور وہاں آ کر تحیۃ المسجد کی نماز نہیں پڑھی کیونکہ بیت اللہ کا طواف ہی وہاں کا تحیۃ ہے۔
" تین بار رمل کیا اور چار مرتبہ اپنی رفتار سے طواف کیا " اس بارہ میں یہ تفصیل جان لینی چاہئے کہ خانہ کعبہ کے گرد مطاف پر سات چکر کرنے کو طواف کہتے ہیں۔ کل طواف کے ساتھ چکر ہوتے ہیں اور ہر چکر حجر اسود سے شروع ہو کر حجر اسود ہی پر ختم ہوتا ہے ہر چکر کو اصطلاح شریعت میں " شوط" کہا جاتا ہے۔
طواف کے سات چکروں میں سے پہلے تین چکر میں تو رمل کرنا چاہئے اور پہلوانوں کی طرف کندھے ہلا ہلا کر ، اکڑ کر اور کچھ تیزی کے ساتھ قریب قریب قدم رکھ کر چلنا " رمل" کہلاتا ہے ، طواف کے باقی چار چکروں میں آہستہ آہستہ یعنی اپنی معمولی چال کے ساتھ چلنا چاہئے۔
" رمل" یعنی اکڑ کر تیز تیز چلنے کی وجہ یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرۃ القضاء کے لئے مکہ تشریف لائے تو مشرکین نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ تپ یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے ان کو بہت ضعیف و سست کر دیا ہے لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس طرح چل کر اپنی قوت و چستی کا اظہار کرو۔ وہ وقت تو گزر گیا مگر اس علت اور وجہ کے دور ہو جانے کے بعد بھی یہ حکم باقی رہا چنانچہ یہ طریقہ اب تک جاری ہے۔
اس حدیث میں " اضطباع " کا ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن طواف کے وقت اضطباع بھی مسنون ہے چنانچہ دوسری احادیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔
چادر کو اس طرح اوڑھنا کہ ان کا ایک سرا داہنے کاندھے سے اتار کر اور داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کاندھے پر ڈال لیا جائے اضبطاع کہلاتا ہے چادر کو اس طرح اورھنے کا حکم بھی اظہار قوت کے لئے دیا گیا تھا اور یہ حکم بھی بعد میں باقی رہا۔
" مقام ابراہیم " کے معنی ہیں حضرت ابراہیم کے پاؤں کے نشان بن گئے تھے جو آج تک قائم ہیں۔
بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ مقام ابراہیم ایک پتھر ہے کہ جب حضرت ابراہیم اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو دیکھنے مکہ آتے تھے تو اونٹ سے اسی پتھر پر اترتے تھے اور جب جانے لگتے تو اسی پتھر پر کھڑے ہو کر سوار ہوتے اس پتھر پر ان کے دونوں مبارک قدموں کا نشان بن گیا ہے! بہر کیف یہ پتھر اب خانہ کعبہ کے آگے ایک حجرے میں رکھا ہوا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف سے فارغ ہو کر اسی مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی یہ دو رکعت نماز اگرچہ اسی جگہ کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے لیکن جائز حرم میں ہر جگہ پڑھنا ہے چاہے مسجد حرام میں پڑھی جائے اور چاہے مسجد حرام سے باہر نیز ہر طواف کے بعد یہ نماز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے ہاں سنت ہے۔
ان دو رکعتوں میں قل ہو اللہ احد اور قل یا ایہا الکافرون کی قرأت کی اس عبادت سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قل ہو اللہ احد پہلی رکعت میں پڑھی اور قل یا ایہا الکافرون دوسری رکعت میں جب کہ اس طرح سورت مقدم پر سورت متاخر کی تقدیم یعنی بعد کی سورت کو پہلے اور پہلے کی سورت کو بعد میں پڑھنے کی صورت لازم آتی ہے، اس لئے علماء نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ حدیث میں اس بارہ میں جو عبارت نقل کی گئی ہے اس میں حرف واؤ صرف اظہار جمع کے لئے یعنی آپ کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں رکعتوں میں یہ دونوں سورتیں پڑھیں، اب یہ کہ ان میں سے کون سی پہلی رکعت میں پڑھی اور کون سی سورت دوسری رکعت میں ؟ اس کی وضاحت نہ اس سے مقصود ہے اور نہ یہاں اس کی وضاحت موجود ہی ہے اس توجیہ کے پیش نظر کوئی اشکال پیدا نہیں ہو سکتا۔ پھر طیبی نے اس عبارت میں ان دونوں سورتوں کے ذکر کی مذکورہ ترتیب کے بارہ میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ قل ہو اللہ احد، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اثبات و اظہار کے لئے ہے اور قل یا ایہا الکافرون شرک سے بیزاری کے واسطے ہے، اس لئے تو حید کی عظمت شان اور اس کی سب سے زیادہ اہمیت کی بناء پر اس سورت کو پہلے ذکر کیا جس سے تو حید کا اثبات ہوتا ہے۔
ان تمام باتوں کے علاوہ بعض روایتوں میں اس عبارت کو اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ اس میں پہلے قل یا ایہا الکافرون ذکر ہے اور بعد میں قل ہو اللہ احد کا اس صورت میں بات بالکل ہی صاف ہو جاتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی سات بار کی، بایں طور کہ صفا سے مروہ تک ایک بار، مروہ سے صفا تک دوسری بار، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتھ پھیرے کئے اس طرح سعی کی ابتداء تو صفا سے ہوئی اور ختم مروہ پر ہوئی جیسا کہ حدیث کے الفاظ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مروہ سعی کا اختتام کیا سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔
سعی یعنی صفا مروہ کے درمیان پھیرے کرنا واجب ہے اس کی اصل یہ ہے کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جن دنوں چھوٹے تھے تو ان کی والدہ حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش کو گئیں جب نشیب میں پہنچیں تو حضرت اسمٰعیل ان کی نظر سے پوشیدہ ہو گئے وہ صفا اور مروہ پر چڑھ کر ان کو دیکھنے کے لئے ان دونوں کے درمیان پھیرے کرتی تھیں، چنانچہ یہ سعی انہیں کی سنت ہے جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورا کیا اب صفا و مروہ کے درمیان چونکہ مٹی بھر گئی ہے اس لئے وہ نشیب باقی نہیں رہا البتہ وہاں نشان بنا دیئے گئے ہیں اور حضرت ہاجرہ کی سنت کو پورا کرنے کے لئے وہاں دوڑتے پھرتے ہیں۔
لو انی استقبلت من امری الخ اگر اپنے بارہ میں مجھے پہلے سے وہ بات معلوم ہوتی الخ۔ اس سلسلہ میں اگرچہ بڑی طویل بحث ہے تاہم خلاصہ کے طور پر سمجھ لیجئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ پہنچے اور عمرہ سے فارغ ہو گئے تو صحابہ کو حکم دیا کہ جو شخص قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہیں لایا ہے وہ عمرہ کے بعد احرام سے باہر آ جائے اور حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کر دے یعنی حج کے احرام کو عمرہ کا احرام قرار دے لے جب حج کے دن آ جائیں تو دوبارہ احرام باندھے اور حج کرے، اور جو شخص قربانی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہے وہ عمرہ کے بعد احرام نہ کھولے بلکہ حج تک حالت احرام ہی میں رہے اور حج کے بعد احرام کھول دے۔ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کا جانور اپنے ساتھ لائے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام نہیں کھولا بلکہ عمرہ کے بعد بھی حالت احرام ہی میں رہے۔ یہ حکم صحابہ کو بڑا گراں گزرا، ایک تو اس لئے ہم تو احرام کھول دیں اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت احرام میں رہیں اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت کا ترک ہو گا جو صحابہ کو کسی حال میں بھی گوارا نہیں تھا، دوسرے انہوں نے یہ سوچا کہ اب عرفہ میں صرف پانچ رہ گئے ہیں اس لئے یہ بات مناسب نہیں معلوم ہوتی کہ احرام کھول دیا جائے اور پھر ہم اس عرصہ میں اپنی عورتوں کے پاس جاتے ہیں اور جب عرفہ کا دن آئے تو فوراً احرام باندھ کر عرفات روانہ ہو جائیں اور حج کریں۔ ان کی خواہش تھی کہ یہ درمیانی پانچ دن بھی احرام ہی کی حالت میں گزر جائیں اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت بھی ہوگی اور ان ایام میں طبعی خواہشات اور دنیاوی امور میں مشغولیت سے اجتناب بھی رہے گا۔ پھر یہ کہ ایام جاہلیت میں چونکہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو برا سمجھا جاتا تھا، اور ان کے ذہن میں بھی ابھی تک یہی بات تھی اس لئے وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس وقت مستقل طور پر عمرہ کی صورت پیدا ہو جائے انہیں سب وجوہ کی بناء پر وہ چاہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں احرام کھولنے کا حکم نہ دیں، اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برہمی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ یہ تو دین کی بات ہے میں کیا کرو، اللہ تعالیٰ نے جس طرح حکم دیا ہے اسی طرح کرنا پڑے گا، چاہے طبیعت پر بار ہی کیوں نہ ہو، اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ میری متابعت کے ترک کی بناء پر تم لوگوں کو احرام کھولنا گراں گزرے گا تو میں بھی قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور احرام کھول کر اس وقت حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کر دیتا لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ حکم الٰہی یہ ہوگا۔
امام نووی فرماتے ہیں کہ عمرہ کے ساتھ اس فسخ حج کے بارہ میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ آیا یہ اس سال میں صرف صحابہ ہی کے لئے تھا یا ہمیشہ کے لئے دوسروں کو بھی ایسا جائز ہے؟ چنانچہ امام احمد اور اہل ظاہر کی ایک جماعت نے تو یہ کہا ہے کہ یہ فسخ حج صرف صحابہ ہی کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ حکم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی ہے، لہٰذا اس شخص کے لئے کہ جو حج کا احرام باندھے، اور ہدی اس کے ساتھ نہ ہو یہ جائز ہے کہ وہ حج کا احرام عمرہ کے ساتھ فسخ کر دے اور افعال عمرہ کی ادائیگی کے بعد حلال ہو جائے یعنی احرام کھول دے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ، حضرت امام مالک ، حضرت امام شافعی اور علماء سلف وخلف کی اکثریت کا کہنا یہ ہے کہ یہ حکم صرف اسی سال میں صحابہ کے لئے تھا کہ زمانہ جاہلیت میں حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو جو حرام سمجھا جاتا تھا اس کی تردید ہو جائے۔
نیز اسی حدیث کے پیش نظر حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد کا مسلک یہ بھی ہے کہ جو شخص عمرہ کا احرام باندھے اور ہدی اپنے ساتھ نہ لائے تو افعال عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام سے باہر آ جائے اور اگر ہدی ساتھ لایا ہو تو احرام سے باہر نہ ہو تاآنکہ" نحر" قربانی کے دن اس کی ہدی ذبح ہو جائے، لیکن حضرت امام شافعی ، اور حضرت امام مالک یہ کہتے ہیں کہ محض افعال عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام سے باہر آ جانا جائز ہے خواہ ہدی ساتھ لایا ہو یا ساتھ نہ ہو۔
" معشر حرام" مزدلفہ میں ایک پہاڑی کا نام ہے۔ ایام جاہلیت میں قریش کا یہ طریقہ تھا کہ وہ حج کے لئے بجائے عرفات میں ٹھہرنے کے مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ یہ " موقف حمس" یعنی قریش اور حرم والوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ قریش کے علاوہ تمام اہل عرب عرفات میں ہی وقوف کرتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ قریش سے تھے اس لئے اہل قریش نے یہ گمان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی عرفات کی بجائے مزدلفہ ہی میں وقوف کریں گے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں وقوف نہیں کیا بلکہ سیدھے عرفات میں پہنچنے میں خطبہ ارشاد فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو خطبے پڑھے، پہلے خطبہ میں تو حج کے احکام بیان کئے اور عرفات میں کثرت ذکر و دعا پر ترغیب دلائی، دوسرا خطبہ پہلے خطبہ کی بہ نسبت چھوٹا تھا اس میں صرف دعا تھی۔
ربیعہ ابن حارث کے بیٹے کے خون کا قصہ یہ ہے کہ حارث آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور عبدالمطلب کے بیٹے تھے ان کا لڑکا تھا ربیعہ، اور ربیعہ کا ایک شیر خوار بچہ تھا جس کا نام تھا ایاس، عرب کے عام قاعدہ کے مطابق یا اس کو دودھ پلانے کے لئے قبیلہ بنی سعد میں دے دیا گیا تھا جن دنوں قبیلہ بنی سعد اور قبیلہ ہزیل کے درمیان معرکہ آرائی ہو رہی تھی ایاس قبیلہ بنی سعد ہی میں تھا، اسی لڑائی کے دوران قبیلہ ہذیل کے کسی شخص نے ایاس کو پتھر مارا جس سے وہ شیر خوار بچہ مر گیا ایاس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا کا پوتا تھا اس لئے اس کے قتل کا انتقام لینے کا حق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا خون معاف کر دیا۔
اس طرح حضرت عباس بن عبدالمطلب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عم محترم تھے، ایام جاہلیت میں سود کا لین دین کرتے تھے اسی وقت کا ان کا بہت زیادہ سود لوگوں کے ذمہ باقی تھا اسے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاف فرما دیا۔
" پھر (دوبارہ) اقامت کہی گئی اور عصر کی نماز ہوئی" یعنی ظہر ہی کے وقت پہلے تو ظہر کی نماز پڑھی گئی، پھر عصر کی نماز ہوئی، گویا ظہر و عصر کی نماز کو جمع کر کے پڑھا گیا۔ اس کو جمع تقدیم کہتے ہیں عرفات میں وقوف کے لئے یہ دونوں نمازیں ملا کر ظہر کے وقت پڑھی جاتی ہیں اس طرح کہ ظہر کے چار فرض کے بعد مؤذن دوسری اقامت کہتا ہے اور پھر عصر کی نماز ہوتی ہے نیز ان دونوں نمازوں کے درمیان سنن و نوافل وغیرہ نہیں پڑھی جاتیں تاکہ دونوں نمازوں کے درمیان وقفہ ہو جانے کی وجہ سے جمع باطل نہ ہو جائے کیونکہ ان نمازوں کو پے درپے پڑھنا واجب ہے۔
اور تیز تیز چل کر مزدلفہ آ گئے۔ مزدلفہ منی اور عرفات کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، دسویں تاریخ کی رات پھر مزدلفہ میں ٹھہرنا حنفیہ کے نزدیک سنت ہے اور حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کے ہاں واجب ہے۔
حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو تکبیر کے ساتھ پڑھیں جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں ظہر و عصر کی نماز ایک اذان اور دو تکبیر کے ساتھ پڑھی تھی چنانچہ حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں مزدلفہ میں یہ دونوں نمازیں ایک اذان اور ایک ہی تکبیر کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں کیونکہ اس موقع پر عشاء کی نماز چونکہ اپنے وقت میں پڑھی جاتی ہے اس لئے زیادتی اعلام کے لئے علیحدہ سے تکبیر کی ضرورت نہیں برخلاف عرفات میں عصر کی نماز کے کہ وہاں عصر کی نماز چونکہ اپنے وقت میں نہیں ہوتی بلکہ ظہر کے وقت ہوتی ہے اس لئے وہاں زیادتی اعلام کے لئے علیحدہ تکبیر کی ضرورت ہے، صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی روایت منقول ہے اور ترمذی نے بھی اس کی تحسین و تصحیح کی ہے۔
" مشعر حرام" جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے عرفات میں ایک پہاڑ کا نام ہے، دسویں تاریخ کی صبح وہاں وقوف حنفیہ کے نزدیک واجب ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک رکن حج ہے۔
" وادی محسر" مزدلفہ اور منی کے درمیان ایک گھاٹی کا نام ہے کہا جاتا ہے کہ اصحاب فیل یہیں عذاب الٰہی میں مبتلا ہو کر ہلاک و برباد ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مشعر حرام مزدلفہ سے روانہ ہوئے اور اس وادی میں پہنچے تو اپنی سواری کو تیز کر دیا اور اس وادی کی مسافت کو تیزی سے گزر کر پورا کیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جس جگہ کسی قوم پر عذاب نازل ہوا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از راہ عبرت اس جگہ سے تیزی سے گزر جاتے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حج کے موقعہ پر نصاریٰ یا مشرکین عرب وادی محسر میں ٹھہرا کرتے تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کے پیش نظر اس وادی میں اپنی سواری کو تیز تیز چلا کر وہاں سے جلد گزر گئے۔ بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کے پیش نظر ہر شخص کے لئے مستحب ہے کہ اس وادی میں تیزی سے گزرے ۔
اور اس درمیانی راہ پر ہوئے جو جمرہ کبریٰ کے اوپر نکلتی ہے کا مطلب یہ ہے کہ جس راستہ سے جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے تھے وہ راستہ اور تھا اور یہ راستہ دوسرا تھا جو جمرہ کبریٰ یعنی جمرہ عقبہ پر جا کر نکلتا ہے۔ پہلا راستہ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات و مزدلفہ تشریف لے گئے تھے اس کو طریق ضب کہتے تھے اور یہ راستہ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمی جمرہ کے لئے منی واپس آ رہے تھے۔ طریق مازمین کہلاتا تھا ضب اور مازمین دو پہاڑوں کے نام ہیں۔
تا انکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جمرہ کے پاس پہنچے جو درخت کے قریب ہے یہاں جمرہ سے جمرہ عقبہ مراد ہے جس کا پہلے ذکر ہوا جمرہ منار کو کہتے ہیں منی میں کئی ایسے منار ہیں جن پر سنگریزے مارے جاتے ہیں اس کا تفصیلی بیان انشاء اللہ آگے آئے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانوروں میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی شریک کر لیا تھا ۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ اونٹ دے دئیے تاکہ وہ اپنی طرف سے ذبح کر لے اب یا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وہ اونٹ اپنے باقی اونٹوں میں سے دئیے یا پھر دوسرے اونٹوں میں سے دئیے گئے ہوں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی قربانی کا گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اپنی قربانی میں سے گوشت کھانا مستحب ہے۔
اور خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہو گئے وہاں پہنچ کر طواف کیا اس طواف کو طواف افاضہ بھی کہتے ہیں اور طواف رکن بھی یہ طواف حج کا ایک رکن ہے، اس پر حج کا اختتام ہو جاتا ہے۔ ویسے تو یہ طواف قربانی کے دن ہی کرنا افضل ہے لیکن بعد میں کرنا بھی جائز ہے۔
اور مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت کے خلاف ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز تو مکہ ہی میں پڑھی البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ میں نفل نماز پڑھی تھی جسے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ظہر کی نماز گمان کیا یا یوں کہا جائے کہ جب دونوں راوایتیں متعارض ہوئیں تو دونوں ساقط ہو گئیں اب ترجیح اس بات کو دی جائے گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز مکہ میں پڑھی کیونکہ مکہ میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ و اللہ اعلم۔

یہ حدیث شیئر کریں