مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ جنازہ کے ساتھ چلنے اور نماز جنازہ کا بیان ۔ حدیث 143

نماز جنازہ میں امام کہاں کھڑا ہو؟

راوی:

وعن سمرة بن جندب قال : صليت وراء رسول الله صلى الله عليه و سلم على امرأة ماتت في نفاسها فقام وسطها

حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ایک عورت کے جنازہ کی نماز پڑھی جو حالت نفاس میں انتقال کر گئی تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے جنازہ کے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
حضرت امام شافعی کا مسلک تو یہ ہے کہ عورت کے جنازہ کی نماز میں امام میت کے کولہوں کے سامنے کھڑا ہو اور مرد کے جنازہ کی نماز میں میت کے سر کے سامنے کھڑا ہو، چنانچہ عورت کی نماز جنازہ کے بارہ میں تو حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے مسلک کی دلیل یہی حدیث ہے جب کہ مرد کی نماز جنازہ کے بارہ میں وہ اپنا مسلک ایک دوسری حدیث سے ثابت کرتے ہیں۔
حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ امام میت کے سینہ کے سامنے کھڑا ہو کر خواہ مرد کا ہو یا عورت کا جنازہ ہو۔ اس حدیث کے بارہ میں حضرت ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث میت کے سینہ کے سامنے کھڑے ہونے کی منافی نہیں کیونکہ انسانی جسم اعضاء کے اعتبار سے دراصل سینہ ہی وسط ہے بایں طور کہ سینہ کے اوپر سر اور ہاتھ ہیں اور سینہ کے نیچے پیٹ اور پاؤں ہیں اور ان سب کے درمیان سینہ ہے، نیز یہ احتمال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر سینہ کے سامنے کولہوں کی طرف تھوڑا مائل کھڑے ہوں گے اور چونکہ یہ دونوں حصے یعنی سینہ اور کولھے آپس میں بالکل قریب قریب ہیں اس لئے راوی نے یہ گمان کر لیا ہو کہ آپ کولہوں کے سامنے کھڑے تھے۔
شمنی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور حضرت امام ابویوسف کی روایت بھی یہ ہے کہ عورت کی جنازہ کی نماز میں امام میت کے کولہوں کے سامنے کھڑا ہو۔ و اللہ اعلم۔

یہ حدیث شیئر کریں