مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ زکوۃ کا بیان ۔ حدیث 268

زکوۃ کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام

راوی:

عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث معاذا إلى اليمن فقال : " إنك تأتي قوما من أهل الكتاب . فادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله . فإن هم أطاعوا لذلك . فأعلمهم أن الله قد فرض عليهم خمس صلوات في اليوم والليلة . فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله قد فرض عليهم صدقة تؤخذ من أغنيائهم فترد في فقرائهم . فإن هم أطاعوا لذلك . فإياك وكرائم أموالهم واتق دعوة المظلوم فإنه ليس بينها وبين الله حجاب "

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (امیر یا قاضی بنا کر) یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم (یہود و نصاری) کے پاس جا رہے ہو لہٰذا (پہلے تو تم) انہیں اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ دعوت کو قبول کر لیں تو پھر تم انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ اسے مان جائیں تو پھر اس کے بعد انہیں آگاہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے (یعنی ان لوگوں سے جو مالک نصاب ہوں) لی جائے گی اور ان کے فقراء کو دے دی جائے گی۔ اگر وہ اسے مان جائیں تم یہ یاد رکھنا کہ ان سے زکوۃ میں اچھا مال لینے سے پرہیز کرنا یعنی چھانٹ کر اچھا مال نہ لینا بلکہ ان کے مال کو تین حصوں میں تقسیم کرنا اچھا، برا، درمیانہ لہٰذا زکوۃ میں درمیانہ مال لینا نیز تم (زکوۃ لینے میں غیر قانونی سختی کر کے یا ان سے ایسی چیزوں کا مطالبہ کر کے جو ان پر واجب نہ ہوں اور یا انہیں زبان یا ہاتھ سے ایذاء پہنچا کر) ان کی بد دعا نہ لینا کیونکہ مظلوم کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس دعا کی قبولیت کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اگرچہ یمن میں مشرک اور ذمی کافر بھی تھے مگر چونکہ تمام اقوام میں اہل کتاب ہی کی اکثریت تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن بیجتے ہوئے وہاں کے لوگوں میں بطور خاص اہل کتاب ہی کا ذکر فرمایا۔
اعلان جنگ سے پہلے کفار کو اسلام کی دعوت دینا واجب ہے
ابن مالک فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کفار کے مقابلہ پر اعلان جنگ سے پہلے کفار کو اسلام کی دعوت دینا واجب ہے لیکن یہ اس صورت میں ہے جب کہ کفار کو اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو اور انہیں اللہ کے آخری دین کی طرف پہلے سے نہ بلایا گیا ہو اگر صورت حال یہ ہو کہ ان کے پاس اسلام کی دعوت پہلے سے پہنچ چکی ہو تو اب جنگ سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دینا واجب نہیں بلکہ مستحب ہو گا۔

یہ حدیث شیئر کریں