مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ روزہ کو پاک کرنے کا بیان ۔ حدیث 508

روزہ دار کے لئے مکروہ اور غیر مکروہ چیزیں

راوی:

روزہ دار کے لئے کسی چیز کا چکھنا (یعنی چکھ کر تھوک دینا) ذخیرہ میں منقول ہے کہ روزہ دار کے لئے بلا ضرورت کسی چیز کا چکھنا مکروہ ہے ہاں عذر کی صورت میں مکروہ نہیں ہے مثلاً کوئی شخص کھانے پینے کی کوئی چیز خریدے اور یہ خوف ہو کہ اگر اسے چکھ کر نہیں دیکھوں گا تو دھوکہ کھا جاؤں گا یا یہ چیز میری مرضی کے مطابق نہیں ہو گی تو اس صورت میں اگر وہ اس چیز کو چکھ لے تو مکروہ نہیں ہو گا۔
فتاویٰ نسفی میں منقول ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند بد خلق اور ظالم ہو اور جو کھانے میں نمک کی کمی و بیشی پر اس کے ساتھ سختی کا معاملہ کرتا ہو تو اس کے لئے بھی جائز ہے کہ وہ کھانا چکھ لے تاکہ اپنے خاوند کے ظلم و تشدد سے بچ سکے، اور اگر خاوند نیک خلق و نیک مزاج ہو تو پھر عورت کے لئے چکھنا جائز نہیں ہو گا یہی حکم لونڈی کا بھی ہے بلکہ وہ نوکر و ملازم بھی اس حکم میں شامل ہیں جو کھانا پکانے پر مقرر ہوتے ہیں۔
بلا عذر کسی چیز کا چبانا مکروہ ہے مثلا کوئی عورت چاہے کہ روٹی وغیرہ چبا کر اپنے چھوٹے بچے کو دیدے تو اگر اس کے پاس کوئی ہوشیار بچی یا کوئی حائضہ ہو تو اس سے چبوا کر بچے کو دیدے خود نہ چبائے اس صورت میں خود چبا کر دینا مکروہ ہے ہاں اگر غیر روزہ دار ہاتھ نہ لگے تو پھر خود چبا کر دیدے اس صورت میں مکروہ نہیں ہو گا۔
روزہ دار کو مصطگی چبانا مکروہ ہے خواہ مرد ہو یا عورت کیونکہ اس کے چبانے سے روزہ ختم کرنے یا روزہ نہ رکھنے کا اشتباہ ہوتا ہے ، ویسے تو مصطگی مرد کو غیر روزہ کی حالت میں بھی چبانا مکروہ ہے ہاں کسی عذر کی بناء پر اور وہ بھی خلوت میں چبانا جائز ہے بعض حضرات نے کہا ہے کہ مصطگی چبانا مردوں کے لئے مباح ہے جب کہ عورتوں کے لئے مستحب ہے کیونکہ وہ ان کے حق میں مسواک کے قائم مقام ہے۔
روزہ کی حالت میں بوسہ لینا اور عورتوں کے ساتھ مباشرت یعنی ان کو گلے لگانا اور چمٹانا وغیرہ مکروہ ہے بشرطیکہ انزال کا خوف ہو یا اپنے نفس و جذبات کے بے اختیار ہو جانے کا اور اس حالت میں جماع کر لینے کا اندیشہ ہو اگر یہ خوف و اندیشہ نہ ہو تو پھر مکروہ نہیں۔
قصدا منہ میں تھوک جمع کرنا اور اسے نگل جانا مکروہ ہے، اسی طرح روزہ دار کو وہ چیزیں اختیار کرنا بھی مکروہ ہے جس کی وجہ سے ضعف لاحق ہو جانے کا خوف ہو جیسے فصد و پچھنے وغیرہ ہاں اگر فصد اور پچھنے کی وجہ سے ضعف ہو جانے کا احتمال نہ ہو تو پھر مکروہ نہیں ہے۔
روزہ کی حالت میں سرمہ لگانا، موچھوں کو تیل لگانا اور مسواک کرنا خواہ زوال کے بعد ہی مسواک کی جائے اور یہ کہ خواہ مسواک تازی ہو یا پانی میں بھیگی ہوئی ہو مکروہ نہیں ہے۔
وضو کے علاوہ بھی کلی کرنا اور ناک میں پانی دینا مکروہ نہیں ہے اسی طرح غسل کرنا اور تراوٹ و ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے بھیگا ہوا کپڑا بدن پر لپیٹنا مکروہ نہیں ہے، مفتی بہ قول یہی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے چنانچہ یہ روایت آئندہ صفحات میں آئے گی۔
روزہ دار کے لئے جو چیزیں مستحب ہیں سحری کھانا، سحری کو دیر سے کھانا اور وقت ہو جانے پر افطار میں جلدی کرنا جب کہ فضا ابر الود نہ ہو، جس دن فضا ابر آلود ہو اس دن افطار میں احتیاط یعنی دو تین منٹ کی تاخیر ضروری ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں