مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ دعاؤں کا بیان ۔ حدیث 748

دعا جزم ویقین کے ساتھ کرو

راوی:

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إذا دعا أحدكم فلا يقل : اللهم اغفر لي إن شئت ارحمني إن شئت ارزقني إن شئت وليعزم مسألته إنه يفعل ما يشاء ولا مكره له " . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے۔ اے اللہ مجھے بخش دے اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر اگر تو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما اگر تو چاہے۔ بلکہ چاہئے یہ کہ وہ عزم بالجزم اور یقین واعتماد کے ساتھ دعا مانگے (شک وشبہ کا کلمہ مثلا اگر تو چاہے وغیرہ کا استعمال نہ کرے) کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اس پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں۔ (بخاری)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگو جزم و یقین کے ساتھ مانگو یعنی یہی کہو کہ اے اللہ ہمارا فلاں مطلب پورا کر، جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے اس لئے یہ نہ کہو۔ کہ اگر تو چاہے تو ہمارا فلاں مطلب پورا کر دے۔ کیونکہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت دعا میں شک پیدا کرنا ہے حالانکہ قبولیت دعا میں یقین ہونا چاہئے کیونکہ اس نے قبولیت کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کیا کرتا اور پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ بے پروا اور مستغنی ہے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے میں اس پر کسی کا کوئی زور نہیں ہے بلکہ وہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے اس لئے اپنی دعا کے ساتھ یہ کہنا کہ اگر تو چاہے بالکل بے فائدہ اور لا حاصل ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں