مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ آداب سفر کا بیان ۔ حدیث 1007

ضرورت مند رفیق کی خبر گیری کرو

راوی:

وعن أبي سعيد الخدري قال : بينما نحن في سفر مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل على راحلة فجعل يضرب يمينا وشمالا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ومن كان له فضل زاد فليعد به على من لا زاد له " قال : فذكر من أصناف المال حتى رأينا أنه لا حق لأحد منا في فضل . رواه مسلم

اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ ایک موقع پر جب کہ ہم ایک سفر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اچانک ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ پر آیا اور اونٹ کو دائیں بائیں پھیرنے موڑنے لگا، چنانچہ یہ ( دیکھ کر ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " جس شخص کے پاس ( اپنی ضرورت سے ) زائد سواری ہو اس کو چاہئے کہ وہ سواری اس شخص کو دے دے جس کے پاس سورای نہیں ہے اور اس شخص کے پاس اپنی ضرورت سے زائد کھانے پینے کا سامان ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ کھانے پینے کا سامان اس شخص کو دے جس کے پاس کھانے پینے کا سامان نہیں ہے ۔ " راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مال اور چیزوں کی اقسام کو ذکر کیا ( یعنی آپ نے چیزوں کا نام لے کر فرمایا کہ جس کے پاس فلاں چیز اور فلاں چیز جیسے کپڑا وغیرہ اپنی حاجت سے زائد ہو تو اس کو اس شخص پر خرچ کیا جانا چاہئے جس کے پاس وہ چیز نہ ہو ) یہاں تک کہ ( آپ کی ترغیب ونصیحت سے ) ہمیں احساس ہو گیا کہ ہم میں سے کسی کا اپنی اس چیز پر کوئی حق نہیں ہے جو اس کے پاس اس کی ضرورت سے زائد ہے ( بلکہ اس چیز کا حقیقی مستحق وہ شخص ہے جو اس وقت اس چیز سے محروم ہے ۔ " ( مسلم )

تشریح :
" دائیں بائیں پھیرنے موڑنے لگا " کا مطلب یہ تو یہ ہے کہ اس کا اونٹ اتنا تھک گیا تھا یا پوری خوراک نہ ملنے کی وجہ سے اتنا لاعز ہوگیا تھا کہ وہ شخص اس اونٹ کو کسی ایک جگہ پر کھڑا کر دینے پر قادر نہیں ہو رہا تھا بلکہ کبھی اس کو دائیں موڑ دیتا تھا اور کبھی بائیں گھما دیتا تھا ۔ یا مطلب ہے کہ وہ شخص اپنی آنکھوں کو چاروں طرف پھیرتا تھا اور ان کو دائیں بائیں گھما کر یہ دیکھتا تھا کہ کہیں سے اس کو وہ چیزیں مل جائیں جو اس کی ضرورت اور حاجتوں کو پورا کر دیں ۔ اس صورت میں حاصل یہ ہوگا کہ اس شخص کے پاس نہ تو سواری کے لئے کوئی مناسب انتظام تھا اور نہ اس کے ساتھ کھانے پینے اور اوڑھنے بچھونے کا کوئی سامان تھا ، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس بے سروسامانی کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا اور پھر ترغیب دلائی کہ وہ اس ضرورت مند اور درماندہ کی خبر گیری کریں ۔

یہ حدیث شیئر کریں