مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ کفاروں کا بیان۔ ۔ حدیث 1033

کفار کو خطوط لکھنے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان

راوی:

جو لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا حقیقی مالک و فرما روا مانتے ہیں اور اس کے اتارے ہوئے قانون کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں ان کو اس بات کا ذمہ دار بنایا گیا ہے کہ وہ پوری کائنات کو خدائے بزرگ و برتر کے احکام کی تبلیغ کریں اور گم کردہ گان راہ ہدایت کو ضلالت وتباہی کے راستوں سے ہٹا کر خدائے واحد کی اطاعت و فرمانبرداری کی صراط مستقیم پر لے آئیں اور اس طرح روئے زمین پر اللہ کا نام اور اس کے جھنڈا سربلند کریں اور جو لوگ (کفار ) اس تبلیغ کے باوجود سرکشی وتمرد سے باز نہ آئیں اور اللہ کے دین کے جھنڈے کو سرنگوں کرنے کی ناپاک جسارت کریں اور اس روئے زمین پر مالک حقیقی کے احکام کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالیں اور گویا دوسرے لفظوں میں وہ اپنے عقائد و کردار کے ذریعہ اللہ کی سر زمین پر فتنہ وفساد کا بازار گرم کریں ان کے خلاف تلوار اٹھائی جائے اور ان سے اس وقت تک جنگ کی جائے جب تک کہ وہ اپنے تمرد اور اپنی سرکشی سے باز آ کر خدائے واحد کی حاکمیت اعلیٰ کا اقرار نہ کر لیں ۔ یا جزیہ (ٹیکس ) ادا کر کے اسلامی مملکت کا وفادار شہری بننا قبول نہ کر لیں ۔
کفار کے خلاف اعلان جنگ سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا واجب ہے :
اسلام نے یہ ضابطہ مقرر کیا ہے کہ مخالفین اسلام کے خلاف اس وقت اعلان جنگ نہ کیا جائے جب تک کہ ان کو اسلام کی دعوت نہ دی جائے ۔ چنانچہ اسلامی قانون کے مطابق کفار سے جنگ کرنے سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا واجب ہے اور ان کو اسلام کی دعوت دینے سے پہلے ان سے جنگ کرنا حرام ہے بشرطیکہ کہ ان کو اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو ۔ اور اگر ان کو اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے تو اس صورت میں جنگ سے پہلے ان کو پھر دوبارہ اسلام کی دعوت دینا مستحب ہے ۔
اسلام کی دعوت دینے کے مختلف طریقے ہیں انہی میں سے ایک طریقہ خط وکتابت بھی ہے خاص طور پر سربراہان مملکت ، سلاطین اور امراء کو عام طور پر خط وکتابت ہی کے ذریعہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف غیر مسلم بادشاہوں اور سربراہان مملکت وقوم جیسے قیصر ، کسری اور نجاشی کو مکتوبات گرامی ارسال فرمائے جن میں انہیں ضلالت وتباہی کا راستہ چھوڑ کر اسلام کے سیدھے راستے پر آنے کی دعوت دی گئی ۔
منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ تشریف لائے اور قیصر روم کو مکتوب بھیجنے کا ارادہ کیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ شاہان روم وایران کا دستور یہ ہے کہ وہ کسی تحریر کو اس وقت تک مستند نہیں مانتے جب تک اس پر مہر نہ لگی ہوئی ہو ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر کے لئے چاندی کی انگوٹھی تیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور اس میں تین سطریں کندہ کرائیں اور ان تینوں سطروں میں اپنا اسم مبارک صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نقش کرایا کہ اوپر کی سطر میں " اللہ " درمیانی سطر میں " رسول " اور نیچے کی سطر میں " محمد " تھا! اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کے نام مکتوب ارسال فرمائے ان پر یہ مہر ثبت فرمائی ۔
طبرانی نے یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ کرامۃ الکتاب ختمہ یعنی مکتوب کی عظمت اس کی مہر ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں