مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ کفاروں کا بیان۔ ۔ حدیث 1042

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ کے اوقات

راوی:

وعن قتادة عن النعمان بن مقرن قال : غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان إذا طلع الفجر أمسك حتى تطلع الشمس فإذا طلعت قاتل فإذا انتصف النهار أمسك حتى تزول الشمس فإذا زالت الشمس قاتل حتى العصر ثم أمسك حتى يصلي العصر ثم يقاتل قال قتادة : كان يقال : عند ذلك تهيج رياح النصر ويدعو المؤمنون لجيوشهم في صلاتهم . رواه الترمذي

اور حضرت قتادہ ، حضرت نعمان ابن مقرن سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا " میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کیا ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے بعد اس وقت تک (جنگ شروع کرنے سے ) رکے رہتے جب تک کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز سے فارغ نہ ہو جاتے اور سورج نہ نکل آتا ، پھر جب سورج نکل آتا تو جنگ شروع کر دیتے اور جب دوپہر ہو جاتی (یعنی شرعی دوپہر کہ وہ چاشت کا وقت ہے جو دوپہر کے قریب ہوتا ہے ) تو دوپہر ڈھلنے تک کے لئے (جنگ سے ) رک جاتے ۔ پھر جب دوپہر ڈھل جاتی (اور ظہر کی نماز پڑھ لیتے ) تو عصر تک جنگ کرتے اور پھر رک جاتے یہاں تک کہ عصر کی نماز پڑھنے کے بعد پھر جنگ میں مشغول ہو جاتے " قتادہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا (یعنی صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جنگی نظام الاوقات کی حکمت کے بارے میں کہا کرتے تھے ) کہ یہ اس وجہ سے تھا کہ ان اوقات میں نصرت کی ہوائیں چلتی ہیں اور مسلمان اپنی نماز میں اپنے لشکروں کے لئے (فتح وکامرانی کی ) دعائیں کرتے ہیں (یعنی نماز کے بعد دعائیں مانگتے ہیں یا نماز کے دوران ہی دعائیں کرتے ہیں جیسا کہ قنوت پڑھنے کے سلسلہ میں احادیث منقول ہیں ') ۔" (ترمذی)

یہ حدیث شیئر کریں