مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان ۔ حدیث 1093

خیبر کے مال خمس میں سے بنو عبد شمس اور بنو نو فل کی محرومی

راوی:

وعن جبير بن مطعم قال : مشيت أنا وعثمان بن عفان إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقلنا : أعطيت بني المطلب من خمس خيبر وتركتنا ونحن بمنزلة واحدة منك ؟ فقال : " إنما بنو هاشم وبنو المطلب واحد " . قال جبير : ولم يقسم النبي صلى الله عليه و سلم لبني عبد شمس وبني نوفل شيئا . رواه البخاري

اور حضرت جبیر ابن مطعم کہتے ہیں کہ میں اور حضرت عثمان ابن عفان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے خمس میں سے بنو مطلب کو حصہ دیا اور ہم کو نہیں دیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتبار سے ہم سب ایک ہی مرتبہ کے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ( جانتا ) کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں ۔" حضرت جبیر کہتے ہیں کہ " اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس ( یعنی حضرت عثمان وغیرہ ) اور بنو نوفل ( یعنی حضرت جبیر وغیرہ ) کو کوئی حصہ نہیں دیا ۔" ( بخاری )

تشریح :
" ہم سب ایک ہی مرتبہ کے ہیں " کا مطلب یہ تھا کہ میں ، حضرت عثمان بنو ہاشم اور بنو مطلب ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتبار سے ایک ہی درجہ کے ہیں بایں طور کہ ہم سب ایک ہی جد اعلی یعنی عبد مناف کی اولاد ہونے کی وجہ سے ایک ہی سلسلہ کی کڑی ہیں ، اور وہ یوں کہ ہاشم ، مطلب، نوفل اور عبد شمس ، یہ چاروں عبد مناف کے بیٹے تھے جو ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چوتھے جد ہیں ، چنانچہ میں ، جبیر ابن مطعم ابن عدی ابن نوفل ابن عبد مناف ہوں ، حضرت عثمان ابن عفان ابن ابوالعاص ابن امیر ابن عبد شمس ابن عبد مناف ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ابن ہاشم ابن عبد مناف ہیں ۔ اس طرح ہم سب ایک ہی سلسلہ نسب کی کڑی ہیں تو پھر ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر سے آئے ہوئے مال کے خمس میں سے اس سلسلہ نسب کی ایک شاخ بنو مطلب کو تو حصہ دیا لیکن ہمیں یعنی عبد شمس اور بنو نوفل کو کیوں محروم رکھا ؟ اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں " تو اس کا حاصل یہ تھا کہ اگرچہ یہ چاروں ایک ہی سلسلہ نسب کی کڑی اور ایک ہی جد اعلی عبد مناف کی اولاد ہونے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے فرد ہیں لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ تعلقات ومعاملات کے اعتبار سے اصل میں صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب ہی ایک مرتبہ کے اور چیز واحد کے مانند ہیں کیونکہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے ممد ومعاون رفیق و غمگسار اور ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں ۔ ان دونوں کے درمیان نہ زمانہ جاہلیت میں مخالفت و منافرت تھی اور نہ اب زمانہ اسلام میں کوئی اختلاف وانتشار ہے جب کہ تم دونوں یعنی بنو عبد شمس اور بنو نوفل زمانہ جاہلیت میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کے حریف و مخالف رہے ہو چنانچہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتبہ نبوت پر فائز ہونے کے بعد مکہ میں اسلام کی تبلیغ شروع کی اور کفار قریش کو اللہ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی طرف بلایا تو بنو عبد شمس اور بنو نوفل ( کے لوگوں ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت وتبلیغ کی سخت مخالفت ہی نہیں کی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درپے آ زار بھی ہوئے ، یہاں تک کہ ان دونوں یعنی بنو عبد شمس اور بنو نوفل نے اسی مخالفت وعداوت کی بناء پر آپس میں ایک دوسرے سے عہد کیا کہ جب تک بنو ہاشم کے لوگ ، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہم میں سے کسی ایک کے حوالے نہ کر دیں اس وقت تک ہم بنو ہاشم کے ساتھ بیاہ شادی ، لین دین اور خرید و فروخت کا کوئی معاملہ نہیں کریں گے ۔ اس وقت بنو مطلب نے بنو ہاشم کے ساتھ پورا تعاون کیا اور ان کے ساتھ متفق و متحد رہے ! لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس ( یعنی حضرت عثمان وغیرہ ) بنو نوفل ( یعنی حضرت جبیر وغیرہ ) کو خیبر کے خمس میں سے کوئی حصہ نہیں دیا باوجودیکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذوی القربی میں سے تھے کیونکہ ان کے اور بنو ہاشم کے درمیان کوئی اتفاق واتحاد نہیں تھا جب کہ بظاہر دونوں کے درمیان مخالفت و منافرت تھی ۔

یہ حدیث شیئر کریں