مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ صلح کا بیان ۔ حدیث 1138

معاہدہئ حدیبیہ کی کچھ اور دفعات

راوی:

4047 – [ 6 ] ( جيد )
وعن صفوان بن سليم عن عدة من أبناء أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم عن آبائهم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " ألا من ظلم معاهدا أو انتقصه أو كلفه فوق طاقته أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس فأنا حجيجه يوم القيامة " . رواه أبو داود

" اور حضرت ابن صفوان ابن سلیم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کے صاحبزدوں سے، وہ ( صاحبزادے ) اپنے ( صحابی ) باپوں سے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " یاد رکھو " جس شخص نے اس ( غیر مسلم ) شخص پر ظلم کیا جس سے معاہدہ ہو چکا ہے ( جیسے ذمی اور مستامن ) یا اس کے حقوق کو نقصان پہنچایا، یا اس پر اس کی طاقت و استطاعت سے زیادہ بار ڈالا ( جیسے کسی ذمی سے اس کی حیثیت و استطاعت سے زیادہ جزیہ لیا یا اس حربی مستامن سے جو دارالاسلام میں تجارت کی غرض سے آیا ہو اس کے مال تجارت میں سے عشر یعنی دسویں حصے سے زیادہ لیا ) اور یا اس کی مرضی و خوشنودی کے بغیر اس سے کوئی چیز لے لی تو میں قیامت کے دن اس شخص کے خلاف احتجاج کروں گا ۔ " ( ابوداو'د )

یہ حدیث شیئر کریں