مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ فئی تقسیم کر نے سے متعلق ۔ حدیث 1153

مال فئی کی تقسیم میں فرق مراتب کا لحاظ

راوی:

وعن مالك بن أوس بن الحدثان قال : ذكر عمر بن الخطاب يوما الفيء فقال : ما أنا أحق بهذا الفيء منكم وما أحد منا بأحق به من أحد إلا أنا على منازلنا من كتاب الله عز و جل وقسم رسوله صلى الله عليه و سلم فالرجل وقدمه والرجل وبلاؤه والرجل وعياله والرجل وحاجته . رواه أبو داود
(2/423)

" اور حضرت مالک ابن اوس ابن حدثان کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مال فئی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ " اس مال " فئی " کا میں تم سے زیادہ مستحق نہیں ہوں اور نہ ہم میں سے کوئی شخص اس مال فئی کا کسی دوسرے شخص سے زیادہ مستحق ہے البتہ ہم عزوجل کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر ہیں چنانچہ ایک وہ شخص ہے جو ( قبولیت اسلام ) قدامت رکھتا ہے، ایک وہ شخص ہے جو ( دین کی راہ میں ) شجاعت و بہادری کے ( کارہائے نمایاں ) اور سعی و مشقّت ( کے اوصاف ) رکھتا ہے، ایک وہ شخص ہے جو اہل و عیال رکھتا ہے اور وہ شخص ہے جو ضرورت و حاجت رکھتا ہے ۔ " (ابو داؤد )

تشریح :
میں تم سے زیادہ مستحق نہیں ہوں ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات اس وہم وگمان کو دور کرنے کے لئے فرمائی کہ وہ چونکہ خلیفہ رسول ہیں اس لئے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مال کا سب سے زیادہ استحقاق رکھتے تھے ہو سکتا ہے کہ آپ کے بعد اب وہ ( حضرت عمر ) اس کے سب سے زیادہ مستحق ہوں ! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی نفی کی کہ دوسرے مسلمان کی طرح میں بھی اس مال کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں، پھر انہوں نے اس مال کا سب سے زیادہ استحقاق رکھنے کی نفی عمومیت کے طور پر فرمائی کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص دوسرے شخص سے زیادہ حق دار نہیں ہے بلکہ اس مال کے استحقاق کی اصل بنیاد وہی فرق مراتب ہے جو کتاب اللہ کے اس ارشاد للفقراء والمہاجرین تین آیتوں تک اور والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار آخر آیت تک، یا ان آیتوں سے ظاہر ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے مراتب میں تفاوت ہے کہ ہر شخص کو اس کے مرتبے کے مطابق کم یا زیادہ دیا جائے گا ۔
" اللہ عز وجل کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم " میں " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم " کا عطف " کتاب اللہ " پر کیا گیا ہے، یعنی جس طرح کتاب اللہ کی مذکورہ آیتوں سے مسلمانوں کے فرق مراتب کا اظہار ہوتا ہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تقسیم سے بھی مراتب میں تفاوت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ اس مال کی تقسیم کے وقت دوسرے مسلمانوں کے بنسبت جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کو زیادہ حصہ دیا کر تے تھے، اسی طرح جو صحابہ کرام ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) بیعت رضوان میں شریک تھے، ان کا لحاظ عام مسلمانوں سے زیادہ رکھتے تھے، یا جو شخص اہل و عیال والا ہوتا تھا اس کو مجرد شخص سے زیادہ دیتے تھے ۔
" ایک وہ شخص ہے الخ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ اوپر کی بات کو اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ مال فئی کی تقسیم کے وقت ہر شخص کے مرتبہ اور اس کی حیثیت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اگر کوئی شخص قدیم الاسلام ہے تو اس کی اس خصوصیت کو دیکھنا چاہئے ۔ اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں شجاعت و بہادری کے کارنامے انجام دینے والا، اور دین کو پھیلانے میں سخت جدوجہد کرنے اور مشقّت برداشت کرنے والا ہے تو اس کے اس وصف کو سامنے رکھنا چاہیے، اسی طرح اگر کوئی اہل وعیال والا زیادہ حاجت مند ہے تو اس کی اس حیثیت و حالت کا خیال کیا جانا چاہیے غرضیکہ جس شخص کو جس طرح کی احتیاج و ضرورت ہو اس کو اسی کے مطابق دینا چاہیے ۔

یہ حدیث شیئر کریں