مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ ذخیرہ اندوزی کا بیان ۔ حدیث 117

احتکار کا شرعی حکم

راوی:

شرعی نقطہ نظر سے احتکار حرام ہے اس قابل نفریں فعل میں مبتلا ہونے والا شخص شریعت کی نظر میں انتہائی نا پسندیدہ ہے ۔ ہاں اگر کوئی شخص اپنی زمین سے پیدا شدہ غلہ کی ذخیرہ اندوزی کرے یا ارزانی کے زمانہ میں غلہ خرید کر رکھ چھوڑے اور پھر اسے گرانی کے وقت بیچے تو یہ حرام نہیں ہے اسی طرح اشیاء کو روک رکھنا جو غذائی ضروریات میں استعمال نہ ہوتی ہوں حرام نہیں ہے ۔
ہدایہ میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ انسانوں اور جانوروں کی غذائی چیزوں کا احتکار مکروہ ہے بشرطیکہ یہ احتکار ایسے شہر میں ہو جہاں اس کی وجہ سے شہر والوں کو تکلیف و نقصان نہ پہنچے یعنی اگر کوئی چھوٹا شہر ہو تو وہاں احتکار کی وجہ سے چونکہ غلہ کی قلت پیدا ہو جائے گی جس کی بنا پر غلہ کی گرانی بڑھ جائے گی اور لوگوں کو نقصان پہنچے گا اس لئے ایسے شہر میں احتکار ممنوع ہو گا ہاں اگر بڑا شہر ہو اور وہاں کسی کے احتکار کی وجہ سے اہل شہر کو نقصان نہ پہنچ سکتا ہو تو پھر ایسے شہر میں احتکار ممنوع نہ ہوگا ۔ اسی طرح ہدایہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص زمین کے غلہ کا احتکار کرے یا کسی اور شہر سے غلہ خرید کر لائے اور اس کو احتکار کرے تو ایسے شخص کو شرعی طور پر احتکار کرنے والا نہیں کہیں گے۔

یہ حدیث شیئر کریں