مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ خیار کا بیان ۔ حدیث 42

تجارتی معاملات میں فریقین کی رضا مندی وطمانیت ضروری ہے

راوی:

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا أن يكون صفقة خيار ولا يحل له أن يفارق صاحبه خشية أن يستقيله " . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي

حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں اسی وقت تک بیع کو باقی رکھنے یا اس کو فسخ کر دینے کا اختیار رکھتے ہیں جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں الاّ یہ کہ ان کی بیع بشرط خیار ہو تو اس میں جدائی کے بعد بھی اختیار باقی رہتا ہے اور ان دونوں میں سے کسی کے لئے از روئے تقوی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ معاملہ کرتے ہی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہو اس خوف سے کہ مبادا دوسرا فریق معاملے کو فسخ کرنے کا اختیار مانگ لے ( یعنی جب تک کسی معاملے میں دونوں فریق پوری طرح مطمئن نہ ہو جائیں ایجاب وقبول میں ان میں سے کوئی محض اس لئے جلد بازی نہ کرے کہ مبادا فریق ثانی معاملے کو فسخ کر دے یا معاملہ طے کرتے ہی ان میں سے کوئی محض اس وجہ سے نہ بھاگ کھڑا ہو کہ کہیں دوسرا فریق بیع کو فسخ کرنے کے اختیار کی شرط نہ چاہنے لگے ( ابوداؤد نسائی)
حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیچنے ولا اور خرید نے والا دونوں آپس کی رضا مندی کے بغیر جدا نہ ہوں (ابوداؤد)
تشریح : مطلب یہ ہے کہ دونوں صاحب معاملہ کوئی تجارتی معاملہ طے کرنے کے بعد اس وقت تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں جب تک کہ قیمت کی ادائیگی اور خرید کردہ چیز کی حوالگی دونوں میں برضا ورغبت طے نہ پا جائے یا عمل میں نہ آجائے کیونکہ اس کے بغیر ایک دوسرے کو نقصان وتکلیف پہنچنے کا احتمال رہے گا جو شریعت میں ممنوع ہے یا پھر اس سے مراد یہ ہے کہ جب معاملہ طے ہو جائے اور دونوں صاحب معاملہ میں سے کوئی ایک وہاں سے اٹھ کھڑے ہونے کا ارداہ کرے تو وہ دوسرے فریق سے پہلے یہ پوچھ لے کہ اب تمہیں کوئی اشکال واعتراض تو نہیں ہے اور کیا اس معاملے پر تم راضی ہو اس کے بعد اگر وہ دوسرا فریق معاملے کو فسخ کرنا چاہے تو وہ بھی معاملے کو فسخ کر دے اور اگر وہ معاملے کی برقراری پر رضا مند ہو تو پھر تکمیل کے بعد اس سے الگ ہو اس صورت میں یہ حدیث معنی کے اعتبار سے پہلی حدیث کے موافق ہو گی نیز یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے کیونکہ اس بات پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ ایک دوسرے کی اجازت کے بغیر جدا ہونا حلال ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں