مشکوۃ شریف ۔ جلد سوم ۔ دیت کا بیان ۔ حدیث 652

حمل کے بچہ کی دیت

راوی:

وعن أبي هريرة قال : قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنين امرأة من بني لحيان سقط ميتا بغرة : عبد أو أمة ثم إن المرأة التي قضى عليها بالغرة توفيت فقضى رسول الله صلى الله عليه و سلم بأن ميراثها لبنيها وزوجها العقل على عصبتها

اور حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے اس بچہ کی دیت میں جو مر کر اس کے پیٹ سے گر پڑا تھا ((عاقلہ پر ) غرہ واجب کیا تھا ، اور غرہ سے مراد غلام یا لونڈی ہے ، پھر جب وہ عورت (کہ جس کے عاقلہ پر غرہ واجب کیا تھا ) مر گئی تو آپ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ اس کی میراث اس کے بیٹوں اور خاوند کے لئے ہے اور اس کی دیت اس کے عصبہ پر ہے ۔" ( بخاری ومسلم)'

تشریح :
واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں اور ان میں سے ایک نے دوسری عورت کے پتھر کھینچ مارا اتفاق سے وہ عورت حاملہ تھی اور پتھر اس کے پیٹ پر لگا ، اس کے نتیجہ یہ ہوا کہ جو بچہ اس کے پیٹ میں تھا اس پتھر کی چوٹ سے مر کر پیٹ سے باہر آ گیا چنانچہ اس کی دیت میں پتھر مارنے والے کے عاقلہ (یعنی اہل خاندان ) پر ایک غرہ یعنی ایک لونڈی یا ایک غلام واجب کیا گیا ، اور اگر وہ بچہ زندہ پیدا ہو کر بعد میں مر جاتا یا اگر وہ بچہ زندہ پیدا ہوتا اور اس کے بعد وہ پتھر مارتی اور اس پتھر کی چوٹ سے وہ بچہ مر جاتا تو اس صورت میں پوری دیت واجب کی جاتی ۔
غرہ اصل میں تو اس سفیدی کو کہتے ہیں جو گھوڑے کی پیشانی پر ہوتی ہے ، پھر سفید رنگ کے غلام یا لونڈی کو بھی غرہ کہا جانے لگا لیکن یہاں مراد مطلق غلام یا لونڈی ہے ، ویسے فقہا کے نزدیک " غرہ " سے دیت کا بیسواں حصہ یعنی پانچ سو درہم مراد ہے ۔
" اور اس کی دیت اس کے عصبہ پر ہے " میں عصبہ سے مراد عاقلہ ہیں اس جملہ سے یہ واضح کرنا مراد ہے کہ اگرچہ اس کی دیت اس کے عاقلہ یعنی خاندان اور برادری والوں پر واجب ہوگی مگر وہ خاندان اور برادری والے پر واجب ہوگی مگر وہ خاندان اور برادری والے اس کی میراث کے وارث نہیں قرار پائیں گے کیونکہ کسی کی دیت کا ذمہ دار ہونے سے اس کی میراث کا حقدار ہونا لازم نہیں آتا ، بلکہ اس کی میراث تو انہی لوگوں کو ملے گی جو اس کے شرعی وارث ہیں ، اب رہی یہ بات کہ یہاں وارثوں میں صرف بیٹوں اور خاوند کی تخصیص کیوں کی گئی تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جس عورت کا ذکر ہے اس کے ورثاء میں صرف یہی لوگ موجود ہوں گے اس لئے انہی کا ذکر کیا گیا ورنہ مقصود یہ ہے کہ میراث ہر اس وارث کو ملے گی جو موجود ہو جیسا کہ اگلی حدیث کے الفاظ (ورثھا ولدہا ومن معہم) سے واضح ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں