مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ خدا کی اطاعت و عبادت کے لئے مال اور عمر سے محبت رکھنے کا بیان ۔ حدیث 1200

زیادہ توجہ، دنیاوی چیزوں کی اصلاح ودرستی کے بجائے اپنی دینی واخروی زندگی کی اصلاح کی طرف مبذول رکھو

راوی:

عن عبد الله بن عمرو قال مر بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا وأمي نطين شيئا فقال ما هذا يا عبد الله ؟ قلت شيء نصلحه . قال الأمر أسرع من ذلك . رواه أحمد والترمذي وقال هذا حديث غريب

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ایک دن میں اور میری والدہ گارے سے کسی چیز کو یعنی اپنے مکان کی دیواروں یا چھت کو لیپ پوت رہے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہماری طرف ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس حالت میں دیکھ کر فرمایا کہ عبداللہ یہ کیا ہے یعنی یہ لیپ پوت کس وجہ سے ہو رہی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس چیز (یعنی دیواروں یا چھت) کی درستی و مرمت کر رہے ہیں (یا اس کو اس لئے لیپ پوت رہے ہیں تاکہ اس میں پختگی آ جائے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " امر، یعنی اجل اس سے بھی زیادہ جلد آنے والی ہے۔ (احمد، وترمذی) اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

تشریح
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ موت کا آنا اس مکان کی ٹوٹ پھوٹ اور خرابی سے کہیں پہلے متوقع ہے۔ تم لیپ پوت کے ذریعہ اس مکان کی مرمت و درستگی میں اس لئے مصروف ہو کہ کہیں اس کے در و دیوار اور چھت تمہاری زندگی ختم ہونے سے پہلے نہ گر پڑے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس مکان کے گر پڑنے اور اس کے خراب ہونے سے تم خود موت کی آغوش میں پہنچ سکتے ہو پس تمہارے لئے اپنے عمل کی اصلاح کی طرف متوجہ رہنا اس مکان کی مرمت و درستگی میں مشغول ہونے سے زیادہ بہتر ہے اور اس میں دل لگانا عبث ہے۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ کا اپنے مکان کو گارا مٹی لگانا اشد ضرورت کے تحت نہیں ہوگا بلکہ وہ زیادہ مضبوطی اور آرائش کے لئے اس کو لیپ پوت رہے ہوں گے۔

یہ حدیث شیئر کریں