مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ جنگ کرنے کا بیان ۔ حدیث 1363

قرب قیامت کے وہ حوادث و وقائع جو یکے بعد دیگرے ظہور پذیر ہوں گے

راوی:

عن معاذ بن جبل قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عمران بيت المقدس خراب يثرب وخراب يثرب خروج الملحمة وخروج الملحمة فتح قسطنطينية وفتح قسطنطينية خروج الدجال . رواه أبو داود

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بیت المقدس کا پوری طرح آباد ہو جانا مدینہ منورہ کی خرابی کا باعث ہوگا، اور مدینہ منورہ کی خرابی، فتنے اور سب سے بڑی جنگ کے وقوع پذیر ہونے کا سبب ہوگا اور اس سب سے بڑی جنگ کا وقوع پذیر ہونا قسطنطنیہ کے فتح ہونے کا باعث ہوگا اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا دجال کے ظاہر ہونے کا سبب اور اس کی علامت ہوگا۔ (ابو داؤد)

تشریح
بیت المقدس کی مکمل آباد کاری کو مدینہ منورہ کی تخریب کا سبب اس اعتبار سے قرار دیا گیا ہے کہ بیت المقدس اور اس کے علاقوں میں غیر مسلموں کا غلبہ ہو جائے گا اور وہ اس کے چپہ چپہ پر قابض وآباد ہو جائیں گے اور جب وہ دشمن اللہ بیت المقدس پر چھا جائیں گے تو ان کی نظریں مدینہ منورہ پر پڑیں گی اور وہ اس پاک شہر کی تخریب کا منصوبہ بنائیں گے جس کی وجہ سے مدینہ کے سارے لوگ اپنے شہر سے نکل کر ان دشمنان دین سے جنگ کرنے میں مشغول ہوں گے۔
یہاں حدیث میں مدینہ منورہ کا ذکر اس کے قدیم نام یثرب کے ذریعے کیا گیا ہے واضح رہے کہ لفظ یثرب اصل ثرب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت کے ہیں یا یہ کہ یثرب مدینہ کا ایک گاؤں تھا جس کو یثرب نامی شخص نے بسایا تھا ، اسی کا نام سارے شہر کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمانے تک یہ شہر یثرب ہی کا کہلاتا تھا ، ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام بدل دیا اور یہ شہر مدینۃ الرسول (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر کہا جانے لگا ، یہ معنی المدینۃ سے بھی ادا ہوتے ہیں، لہٰذا عام طور پر المدینۃ کہا جاتا ہے یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مدینہ کو یثرب کہنے سے منع فرمایا گیا ہے تو پھر اس حدیث میں خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یثرب نام کیوں استعمال فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں مدینہ کو یثرب فرمانا، یثرب کہنے کی ممانعت نافذ ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جن حوادث وقائع کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب مذکورہ ترتیب کے مطابق یکے بعد دیگرے قیامت کے قریب واقع ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک کا وقوع پذیر ہونا دوسرے کے وقوع پذیر ہونے کی علامت اور نشانی ہوگی اگرچہ اس کا وقوع پذیر ہونا مہلت اور تاخیر سے ہی کیوں نہ ہو۔
طیبی نے کہا ہے کہ اگر یہ سوال پیدا ہو کہ اس حدیث میں تو فتح قسطنطنیہ کو دجال کے ظاہر ہونے کی علامت قرار دیا گیا ہے جب کہ پہلے جو حدیث گزری ہے اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان شیطان اچانک یہ اعلان کرے گا کہ تمہاری عدم موجودگی میں دجال تمہارے گھروں تک جا پہنچا ہے ۔ اور جب مسلمان یہ اعلان سن کر دجال کی تلاش میں نکلیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ ایک جھوٹا اعلان تھا۔ پس ان دونوں حدیثوں میں تضاد کیوں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد محض قسطنطنیہ کی فتح کو دجال کے نکلنے کی علامت قرار دینا ہے کہ جب قسطنطنیہ فتح ہو جائے تو سمجھنا کہ اب دجال کا خروج ہوگا اور دجال کا خروج کس طرح ہوگا اور مسلمانوں کو اس کے بارے میں کیسے معلوم ہوگا؟ پس حقیقت میں ان دونوں حدیثوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ علاوہ ازیں شیطان کے اس جھوٹے اعلان کا تعلق دجال کے خروج سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ وہ تو اس طرح کا جھوٹا اعلان صرف اس مقصد سے کرے گا ، تاکہ مسلمانوں میں سراسیمگی اور بے اطمینانی پھیلا دی جائے اور وہ غنیمت کا مال تقسیم کرنے سے باز رہیں۔

یہ حدیث شیئر کریں