مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ طب کا بیان ۔ حدیث 444

دوا صرف ایک ظاہری ذریعہ ہے حقیقی شفا دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے

راوی:

وعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لكل داء دواء فإذا أصيب دواء الداء برأ بإذن الله . رواه مسلم .

اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہو جاتی ہے تو بیمار اللہ کے حکم یعنی اس کی مشیت و ارادہ سے اچھا ہو جاتی ہے ۔" (مسلم )

تشریح
" اللہ کے حکم" کی قید اس لئے لگائی گئی ہے تاکہ یہ گمان نہ کیا جائے کہ مرض سے شفایابی کا اصل میں تعلق دوا سے ہے اور مریض کو صحت بخشنے میں علاج و معالجہ حقیقی اور مستقل بالذات مؤثر ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل میں شفا یابی تو محض اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ پر موقوف ہے، دوا اور علاج و معالجہ محض ایک ظاہری ذریعہ اور وسیلہ ہے، کسی بھی مرض پر کوئی دوا اسی وقت اثر انداز ہوتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے، چنانچہ روایت حمیدی میں اس کی تفصیل یوں منقول ہے کہ ایسا کوئی بھی مرض نہیں ہے جس کا علاج نہ ہو چنانچہ جب کوئی شخص بیمار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جس کے ساتھ ایک پردہ ہوتا ہے وہ فرشتہ اس پردہ کو بیمار کے مرض اور دوا کے درمیان حائل کر دیتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیمار جو بھی دوا استعمال کرتا ہے وہ مرض کو نہیں لگتی اور شفا حاصل نہیں ہوتی یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت ہوتی ہے کہ بیمار اچھا ہو جائے تو وہ فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ مرض اور دوا کے درمیان سے پردہ اٹھا دیا جائے اس کے بعد بیمار جب دوا پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دوا کے ذریعہ اس کو شفا دیدیتا ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی مرض لاحق ہو جائے تو اس کا علاج کرنا اور دوا مستحب ہے، چنانچہ صحابہ کرام اور اکثر علماء کا یہی مسلک ہے ۔ نیز اس سے ان حضرات کے نظریہ کی بھی تردید ہوتی ہے جو علاج معالجہ اور دواء کی افادیت و ضرورت سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر چیز کی طرح مرض بھی قضا و قدر کے زیر اثر ہے اس لئے کسی بیمار کا علاج کرنا لاحاصل ہے ۔ جمہور علماء جو علاج و معالجہ کے قائل ہیں کی دلیل مذکورہ احادیث ہیں اور انکا اعتقاد یہ ہے کہ بیشک امراض کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، لیکن امراض کے ازالہ کے ذرئع پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جس طرح مرض و بیماری قضا و قدر کے تابع ہے اسی طرح علاج و معالجہ کرنا بھی تقدیر الہٰی ہی سے ہے اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسا کہ ہر انسان کی موت کا وقت بالکل اٹل ہے جس کی موت جس صورت میں لکھی جا چکی ہے اسی صورت میں آ کر رہے گی ۔ لیکن اس کے باوجود اپنی حفاظت و سلامتی کے ذرئع اختیار کرنا اور اپنی جان کو کسی حادثہ یا دشمن کے حملہ سے محفوظ رہنے کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، یا میدان جنگ میں دشمنان دین کو قتل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ حاصل یہ کہ جان و صحت کی حفاظت و سلامتی کے لئے دوا وغیرہ جیسے اسباب ذرائع اختیار کرنا نہ تو حکم الٰہی کے خلاف ہے اور نہ توکل کے منافع ہے جیسا کہ کھانے کے ذریعہ بھوک کو دفع کرنا توکل کے منافع نہیں ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر توکل کرنے والا کون انسان ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سید المتوکلین تھے، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم علاج بھی کرتے تھے اور بیماری کو دور کرنے کے ذرائع اختیار فرماتے تھے ۔

یہ حدیث شیئر کریں