مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ طب کا بیان ۔ حدیث 450

شہد کی شفا بخش تاثیر

راوی:

وعن أبي سعيد الخدري قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أخي استطلق بطنه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اسقيه عسلا فسقاه ثم جاء فقال سقيته فلم يزده إلا استطلاقا فقال له ثلاث مرات . ثم جاء الرابعة فقال اسقه عسلا . فقال لقد سقيته فلم يزده إلا استطلاقا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم صدق الله وكذب بطن أخيك . فسقاه فبرأ . ( متفق عليه )

اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک دن ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرے بھائی کا پیٹ چل رہا ہے یعنی اس کو دست پر دست آ رہے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو شہد پلا دو ، اس شخص نے (جا کر ) اپنے بھائی کو شہد پلایا (کچھ دیر کے بعد ) پھر آیا اور کہنے لگا کہ میں نے شہد پلا دیا تھا لیکن شہد نے اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا کہ اس کے پیٹ چلنے میں اور زیادتی کر دی ہے (یعنی شہد پلانے کے بعد سے دستوں میں پہلے سے بھی زیادتی ہو گئی ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو تین مرتبہ یہی حکم دیا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی فرماتے کہ اس کو شہد پلا دو، اور وہ شخص شہد پلاتا رہا، پھر آ کر کہتا کہ میں نے شہد پلا دیا مگر دستوں میں پہلے سے بھی زیادتی ہو گئی ہے ) یہاں تک کہ وہ جب چوتھی مرتبہ آیا ( اور کہنے لگا کہ اس کے دستوں میں زیادتی ہو گئی ہے ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ اس کو شہد پلا دو ، اس نے عرض کیا کہ میں نے شہد پلا دیا ہے، مگر شہد نے اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا کہ اس کے پیٹ چلنے میں اور زیادتی کر دی ہے، تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ نے تو سچ فرمایا ہے مگر تمہارے بھائی کا پیٹ ہی جھوٹا ہے۔" آخر کار اس شخص نے اپنے بھائی کو پھر شہد (خالص یا پانی میں ملا کر پلایا ) تو وہ اچھا ہو گیا ۔" (بخاری ومسلم )

تشریح
کسی بیماری کی صورت میں شہد استعمال کرنے کا ایک خاص طریقہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یوں منقول ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی سے کہے کہ وہ اپنے مہر میں سے کچھ مال دے اور پھر اس مال کے ذریعہ شہد خریدے اور شہد کو بارش کے پانی میں ملا کر پی لے انشاء اللہ بابرکت شفا پائے گا ۔
" اللہ تعالیٰ نے تو سچ فرمایا ہے " ان الفاظ کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کریمہ (فِيْهِ شِفَا ءٌ لِّلنَّاسِ ) 16۔ النحل : 69) کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شہد میں لوگوں کے لئے شفا ہے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ بتا دیا تھا کہ اگر وہ مریض شہد پئے گا تو اس کے پیٹ میں آرام ہو جائے گا اور دست بند ہو جائیں گے اسی بات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد کے ذریعہ بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا ہے کہ شہد پینے سے اس کو فائدہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات غیر صحیح نہیں ہو سکتی لہٰذا مریض کو شہد پلائے جاؤ اس کو یقینا فائدہ ہوگا ۔
پھر آپ نے " تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے " کے ذریعہ گویا صحت یابی میں تاخیر ہونے کی علت بیان فرمائی کہ تمہارے بھائی کے پیٹ میں کوئی سخت مادہ جمع ہو رہا ہے اس کی وجہ سے شہد کی دی ہوئی مقدار کار گر نہیں ہو رہی ہے جب تک وہ مادہ باہر نہیں آ جائے گا تب تک اسے آرام نہیں آئے گا یا یہ کہ پیٹ خطا کر رہا ہے ، یعنی ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا ہے اور ابھی شفا کو قبول نہیں کر رہا ہے جب وہ ٹھیک کام کرنے لگے گا اور شفا قبول کرے گا تو دست بند ہو جائیں گے واضح رہے کہ اہل عرب اپنے کلام میں اکثر لفظ کذب یعنی جھوٹ کو خطا کی جگہ استعمال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ جب انہیں کہنا ہوتا ہے کہ فلاں شخص کے کان نے خطاء کی یعنی اس نے جو بات سنی ہے اس کی حقیقت کو نہیں پہنچا ہے تو وہ یوں کہتے ہیں ۔ کذب سمعہ یعنی اس کے کان نے جھوٹ کہا ۔

یہ حدیث شیئر کریں