مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ خواب کا بیان ۔ حدیث 558

جھوٹا خواب نہ بناؤ

راوی:

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من أفرى الفرى أن يري الرجل عينيه ما لم تريا . رواه البخاري .

اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بڑے بہتانوں میں سے ایک بڑا بہتان یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنی آنکھوں سے وہ چیز دکھلائے جو حقیقت میں آنکھوں نے نہیں دیکھی ہے ۔" (بخاری )

تشریح
مطلب یہ ہے کہ آنکھوں پر یہ جھوٹ باندھا جائے کہ انہوں نے دیکھا ہے حالانکہ حقیقت میں انہوں نے کچھ نہیں دیکھا، گویا مقصود جھوٹا خواب بنانے کی مذمت ظاہر کرنا ہے اور اس کو بڑا بہتان اس لئے فرمایا گیا ہے کہ خواب ایک طرح سے وحی کے قائم مقام ہے اور اس کا تعلق حق تعالیٰ سے ہے پس جھوٹا خواب بنانا گویا حق تعالیٰ بہتان باندھنا ہے ۔ ایک حدیث میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ خواب دکھانے کے لئے فرشتے کو بھیجتا ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں