مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ آداب کا بیان۔ ۔ حدیث 578

سلام کے ثواب میں اضافہ ، باعث بننے والے الفاظ

راوی:

وعن عمران بن حصين أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال السلام عليكم فرد عليه ثم جلس . فقال النبي صلى الله عليه وسلم عشر . ثم جاء لآخر فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فرد عليه فقال ثلاثون . رواه الترمذي وأبو داود .

اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص آیا اور کہا السلام علیکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کے جواب دیا پھر وہ شخص بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لئے دس نیکیاں لکھی گئی ہیں پھر ایک شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا کہ اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی گئی ہیں اس کے بعد ایک شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی گئی ہیں۔ (ترمذی، ابوداؤد)۔

تشریح
مذکورہ بالا ارشاد گرامی کا تعلق سلام کرنے والے کے ساتھ ہے اگر سلام کرنے والا السلام علیکم کہے اور جس کو سلام کیا گیا ہے وہ اس کے جواب میں ورحمۃ اللہ کے لفظ کا اضافہ کرے یعنی وعلیکم السلام ورحمہ اللہ کہے یا سلام کرنے والا السلام علیکم ورحمہ اللہ کہے اور جواب دینے والا وبرکاتہ کے لفظ کے اضافہ کرے یعنی یوں کہے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اضافہ ثواب کے سلسلے میں اس کا حکم بھی یہی ہوگا اور یہی حکم مغفرتہ کے اضافہ کا بھی ہے جیسا کہ آگے آنے والی حدیث میں مذکور ہے۔

یہ حدیث شیئر کریں