مشکوۃ شریف ۔ جلد چہارم ۔ شکار کا بیان ۔ حدیث 7

مشتبہ ذبیحہ کا حکم

راوی:

وعن عائشة قالت : قالوا : يا رسول الله إن هنا أقواما حديث عهدهم بشرك يأتوننا بلحمان لا ندري أيذكرون اسم الله عليها أم لا ؟ قال : " اذكروا أنتم اسم الله وكلوا " . رواه البخاري

" اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) صحابہ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہاں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے شرک کا زمانہ بہت قریب کا ہے ( یعنی وہ نو مسلم جنہوں نے اسلام کے احکام اور دینی مسائل پوری طرح ابھی نہیں سیکھے ہیں ) وہ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں اور ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ آیا انہوں نے اس کے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ( تو کیا ان کا لایا ہوا گوشت ہم کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تم اللہ کا نام لے لیا کرو اور اس کو کھا لیا کرو " ( بخاری )

تشریح
" تم اللہ کا نام لے لیا کرو الخ " کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بسم اللہ پڑھ کر اس گوشت کو کھا لو تو اس وقت تمہارا بسم اللہ پڑھنا ذبح کرنے والے کے بسم اللہ پڑھنے کے قائم مقام ہو جائے گا بلکہ ذراصل اس ارشاد کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے ، کہ کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جو گوشت تمہارے پاس لایا گیا ہے اس کے بارے میں تم یہ نہیں جانتے کہ آیا وہ اس ذبیحہ کا ہے جو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا بسم اللہ پڑھے بغیر ذبح کر دیا گیا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس گوشت کو کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس کو ذبح کرنے والا ان میں سے ہو جن کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا شرعا جائز ہے اور یہ جواز اس حسن ظن کی بنیاد ہے جو ایک مسلمان کی حالت و کیفیت کو صلاح و نیکی ہی پر محمول کرنے کا متقاضی ہوتا ہے لہٰذا اگر اس طرح کا کوئی شخص تمہیں گوشت دے جائے تو تم یہی حسن ظن رکھو کہ وہ چونکہ بہر حال مسلمان ہے اس لئے اس نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ضرور لیا ہوگا ۔

یہ حدیث شیئر کریں