مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ حشر کا بیان ۔ حدیث 112

میدان حشر میں بہنے والا پسینہ

راوی:

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرق الناس يوم القيامة حتى يذهب عرقهم في الأرض سبعين ذراعا ويلجمهم حتى يبلغ آذانهم . متفق عليه .

" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن ( میدان حشر میں جب حساب کتاب کی ابتداء ہوگی اور نامہ اعمال کھلنے شروع ہوں گے تو ) لوگوں کو پسینہ آئے گا اور وہ پسینہ اس قدر بہے گا کہ زمین کے اندر ستر گز تک چلا جائے گا اور ان کے لئے لگام بن جائے گا یہاں تک کہ ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا یعنی وہ پسینہ ان کے دہنوں تک پہنچ کر لگام کی طرح ان کے منہ کو جکڑے گا کہ وہ بات چیت کرنے پر بھی قادر نہیں ہوسکیں گے ۔ " ( بخاری ومسلم )

تشریح :
" لوگوں " سے سارے لوگ مراد ہیں ان میں جنات بھی شامل ہیں کہ ان کو بطریق ادنی پسینہ آئے گا اور بہے گا پس ' ' جنات " کا ذکر نہ کرنا اکتفا کی قبیل سے ہے ، نیز ظاہر یہ ہے کہ انبیاء اور اولیاء ان لوگوں سے مستثنی ہوں گے واضح رہے کہ پسینہ کا اتنی شدت کے ساتھ آنا اور بہنا اس سبب سے ہوگا کہ وہ وقت سخت قسم کی ہولناکی کا ہوگا، نامہ، اعمال کھلنے پر حیاوخجالت اور ندامت وملامت کا غلبہ ہوگا سوج کی تپش اور آگ کی لپک بہت زیادہ ہوگی ۔
یہ جو فرمایا گیا ہے کہ لوگوں کو اتنی کثرت سے پسنہ آئے گا کہ وہ ان کے لئے لگام بن جائے گا تو اس سلسلے میں زیادہ وضاحت آنے والی حدیث سے ہوگی جس سے معلوم ہوگا کہ پسینہ کی کثرت وشدت کے مختلف احوال ہوں گے جن سے لوگ اپنے اپنے مرتبہ اعمال کے اعتبار سے دو چار ہوں گے ۔

یہ حدیث شیئر کریں