مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ حشر کا بیان ۔ حدیث 113

میدان حشر میں سورج بہت قریب ہوگا

راوی:

وعن المقداد قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول تدنى الشمس يوم القيامة من الخلق حتى تكون منهم كمقدار ميل فيكون الناس على قدر أعمالهم في العرق فمنهم من يكون إلى كعبيه ومنهم من يكون إلى ركبتيه ومنهم من يكون إلى حقويه ومنهم من يلجمهم العرق إلجاما وأشار رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده إلى فيه . رواه مسلم . ( متفق عليه )

" اور حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ " قیامت کے دن ( میدان حشر میں ) سورج کو مخلوق کے نزدیک کر دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلہ پر رہ جائے گا پس تمام لوگ اپنے اعمال کے بقدر پسینہ میں شرابور ہوں گے چنانچہ ان میں سے بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گھٹنوں تک پسینہ ہوگا بعض لوگ وہ ہوں گے جو کمر تک پسینہ میں ڈوبے ہوں گے اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے لئے ان کا پسینہ لگام بن جائے گا یعنی ان کے داہنے تک پسینہ ہوگا بلکہ دہانے کے اندر تک پہنچ جائے گا یہ فرما کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اپنے دہانہ ، مبارک کی طرف اشارہ فرمایا ۔ " ( مسلم )

تشریح :
" میل " عرب میں کوس ( یعنی ١٧٦٠گز کے فاصلہ ) کو بھی کہتے ہیں اور سرمہ لگانے کی سلائی کو بھی کہا جاتا ہے ، پس بعض حضرات نے تو ان سے ایک میل کے فاصلہ پر رہ جانے سے ایک کوس کے بقدر فاصلہ مراد لیا ہے اور بعض حضرات نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ اس دن سورج سرمہ لگانے کی سلائی بقدر فاصلہ پر ہوگا ! بہر حال اصل مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ میدان حشر میں سورج لوگوں کے بہت نزدیک آجائے گا ۔
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اس دن لوگوں کو جو پسینہ آئے گا وہ ان کے اعمال کے مراتب کے بقدر ہوگا، چنانچہ سب سے کم پسینہ جن لوگوں کو ہوگا وہ لوگ ہوں گے جن کے اعمال بہت زیادہ اور اچھے ہوں گے ، اور وہ لوگ صرف ٹخنوں تک پسینہ میں شرابور ہوں گے ، اسی پر دوسروں کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جس شخص کے نیک اعمال جتنے کم اور برے اعمال جتنے زیادہ ہوں گے وہ اتنا ہی زیادہ پسینہ میں غرق ہوگا ۔
دو اشکال اور ان کا جواب :
اس حدیث کے سلسلے میں دو اشکال پیدا ہوسکتے ہیں ، ایک تو یہ ہے کہ اس وقت سورج ہم سے کروڑوں میل کے فاصلہ پر ہونے کے باوجود اتنی زیادہ حرارت رکھتا ہے کہ اس کی براہ رست تمازت کسی انسان کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے ، تو جب میدان حشر میں سورج صرف ایک میل کے فاصلہ پر رہ جائے گا تو اس کی حرارت وتمازت نہ صرف یہ کہ قابل برداشت کیسے ہوگی بلکہ اس کی زد میں آنے والے لوگ زندہ کیسے رہیں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آخرت کے اجسام دنیا کے اجسام کی طرح نہیں ہوں گے اس لئے وہاں کے اجسام پر گزرنے والے احوال پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ، علاوہ ازیں آخرت میں چونکہ موت نہیں ہوگی اس لئے وہاں لوگ سخت سے سخت مشقت وتکلیف اٹھالیں گے دوسرا اشکال یہ پیدا ہو سکتا ہے کہ پسینہ دریا کی موج کی طرح بعض لوگوں کے دہانوں تک پہنچ جائے گا تو یہ کیسے ممکن ہوگا کہ دوسرے لوگوں کے سحل تک پہنچ کر رک جائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہر شخص کے پسینہ کو اس کے اعمال کے تناسب سے روکے رکھے گی کہ کسی کا پسینہ تو اس کے دہانوں تک پہنچ جائے گا اور کوئی اپنے پسینہ میں صرف ٹخنوں تک غرق رہے گا جیسا کہ اس کا مشاہدہ اس دنیا میں بھی ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریائے نیل کی وہ موجیں جنہوں نے دوسروں کو غرقاب کر دیا تھا ، حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کے لئے ساکن وجامد ہوگئی تھیں ! علاوہ ازیں وہی بات یہاں بھی کہی جاسکتی ہے کہ آخرت کے معاملات بالکل جداگانہ نوعیت کے ہوں گے ان کو یہاں دنیا کے حالات ومعاملات پر قیاس نہیں کرنا چائے ، وہاں کے تمام امور عادت اور دنیاوی نظام قدرت کے بالکل خلاف انوکھے طور پر ظاہر ہوں گے ، کیا ایسا نہیں ہوتا کہ ایک قبر میں دو مردے ہوتے ہیں اور دونوں پر الگ الگ حالات طاری ہوتے ہیں کہ ان میں سے ایک تو عذاب میں مبتلا رہتا ہے اور دوسرا راحت وچین کے ساتھ ہوتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے احوال سے بے خبر رہتے ہیں اور اس دنیا میں اس کی نظیر یہ ہے کہ دو شخص ایک طرح کی نیند سوتے ہیں اور وہ دونوں الگ الگ نوعیت کے خواب دیکھتے ہیں ، ایک تو خواب دیکھ کر رنج وغم محسوس کرتا ہے اور دوسرا خواب دیکھ کر خوش ہوتا ہے اس کو بھی چھوڑئیے ، کیا ایسا نہیں ہوتا کہ ایک ہی مکان میں دو آدمی رہتے ہیں، ان میں سے ایک تو صحت وشادمانی کی حالت میں ہوتا ہے اور دوسرا مرض ومصیبت میں مبتلا ہو کر رنج وتکلیف اٹھاتا ہے ؟

یہ حدیث شیئر کریں