مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ آنحضرت کی بعثت اور نزول وحی کا بیان ۔ حدیث 425

وحی کس طرح آتی تھی :

راوی:

وعن عائشة أن الحارث بن هشام سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله كيف يأتيك الوحي ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " أحيانا يأتيني مثل صلصلة الجرس وهو أشده علي فيفصم عني وقد وعيت عنه ما قال وأحيانا يتمثل لي الملك رجلا فيكلمني فأعي ما يقول " . قالت عائشة : ولقد رأيته ينزل عليه الوحي في اليوم الشديد البرد فيفصم عنه وإن جبينه ليتفصد عرقا . متفق عليه

اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حارث ابن ہشام نے (جوابوجہل کے بھائی تھے اور فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے تھے ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی کس طرح آتی ہے ؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس وحی کبھی تو گھنٹال کی آواز میں آتی ہے ۔ ( یعنی وحی کے الفاظ جو مجھ تک پہنچائے جاتے ہیں گھنٹال کی آواز کی طرح صوتی آہنگ رکھتے ہیں ) اور یہ وحی مجھ پر سخت ترین وحی ہوتی ہے ، چنانچہ فرشتہ ، وحی کے جو الفاظ مجھ تک پہنچاتا ہے میں اس کو بڑی محنت اور توجہ سے سن کریاد کرلیتا ہوں ۔" اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فرشتہ انسان کی شکل اختیار کرکے مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور کچھ کہتا ہے میں اس کو محفوظ اور یاد کرلیتا ہوں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (یہ بیان کرکے ) کہتی ہیں ! میں نے دیکھا ہے کہ جب شدید سردی کے دن ہوتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تھی اور فرشتہ وحی پہنچا کر چلا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینہ سے شرابور نظر آتی تھی ۔ ( بخاری ومسلم )

تشریح :
اور یہ وحی مجھ پرسخت ترین وحی ہوتی ہے ۔" یعنی اس وحی کے الفاظ اور مفہوم کے الفاظ ومقصد کو سمجھنے میں سخت دشواری پیش آتی ہے کیونکہ ایسی بات کو سمجھنا جس کے الفاظ غیر مانوس صوتی آہنگ (مثلا گھنٹال کی آواز جیسا آہنگ ) رکھتے ہوں سخت دشوار ہوتا ہے ، اس کی بہ نسبت وہ بات زیادہ آسانی سے سمجھ آتی ہے جو کسی انسان سے ہمکلامی ومخاطبت اور مانوس صوتی آہنگ کی صورت میں ہو ۔
" فرشتہ انسان کی شکل اختیار کرکے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ۔ " ' کے تحت شارحین نے یہ مشہور قول لکھا ہے کہ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام انسان کی شکل میں آتے تھے تو زیادہ تر ایک صحابی حضرت دحیہ کلبی کی شکل وصورت میں آتے تھے نیز علماء نے لکھا ہے کہ استفادہ اور استفاضہ کے لئے بنیادی شرط ہے کہ بات کہنے والے اور اس بات کو سننے والے کے درمیان وہ مناسبت ہونی چاہیے جو ایک دوسرے سے وحشت زدہ نہ کرے ، چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی ملکیت اور روحانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر غالب کردی جاتی تھی اور کچھ عرصہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشریت سے جدا کردیا جاتا تھا ، جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ملکوتی مناسبت حاصل ہوجاتی تھی یہ وہ صورت ہوتی تھی جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول وحی کا پہلا طریقہ بیان کرتے ہوئے اشارہ کیا ۔ اور کبھی ایسا ہوتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کو حضرت جبرائیل علیہ السلام پر غالب کردیا جاتا تھا اور وہ کچھ عرصہ کے لئے وصف بشریت کے حامل ہوجاتے تھے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے درمیان بشری مناسبت پیدا ہوجاتی تھی ، یہ وہ صورت ہوتی تھی جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول وحی کا دوسرا طریقہ بیان کرتے ہوئے اشارہ کیا ۔ لیکن یہ ساری بحث اس وقت ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کو صلصلۃ الجرس (گھنٹال کی آواز ) سے تعبیر فرمایا ہے وہ نفس وحی کی آواز ہوتی تھی جیسا کہ حدیث کی ظاہری عبارت سے واضح ہوتا ہے ۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ صلصلۃ الجرس کی طرح وہ آواز دراصل حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اپنی آواز ہوتی تھی جو وحی پہنچانے سے پہلے ان سے ظاہر ہوتی تھی، اور پہلے ان کی اس آواز کے ظاہر ہونے میں کی حکمت یہ ہوتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہوجائیں ، اور سماعت وحی کے اصل الفاظ سننے کے لئے اس طرح تیار اور خالی ہوجائے کہ وحی کے علاوہ اور کسی آواز کے لئے اس (سماعت ) میں جگہ ہی نہ رہے ، اور اسی لئے نزول وحی کی یہ (پہلی ) صورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی سخت ہوتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر ذہنی وفکری طاقت مجتمع ہو کر صرف وحی کی طرف متوجہ رہتی تھی ۔
" ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینہ سے شرابور نظر آتی تھی ۔" بظاہر تو یہ معلومہ ہوتا ہے کہ یہ کیفیت اس صورت میں پیش آتی تھی جب نزول وحی کا پہلا طریقہ عمل میں آتا تھا ، لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں صورتوں میں یہ کیفیت پیش آتی ہو۔

یہ حدیث شیئر کریں