مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ معراج کا بیان ۔ حدیث 449

سدرۃ المنتہی کا ذکر

راوی:

وعن عبد الله قال : لما أسري برسول الله صلى الله عليه و سلم انتهى به إلى سدرة المنتهى وهي في السماء السادسة إليها ينتهي ما يعرج به من الأرض فيقبض منها وإليها ينتهي ما يهبط به من فوقها فيقبض منها قال : [ إذ يغشى السدرة ما يغشى ] . قال : فراش من ذهب قال : فأعطي رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثا : أعطي الصلوات الخمس وأعطي خواتيم سورة البقرة وغفر لمن لا يشرك بالله من أمته شيئا المقحمات . رواه مسلم

اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں ( بیت المقدس اور آسمانوں کی ) سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہی تک پہنچایا گیا اور سدرۃ المنتہی چھٹے آسمان پر ہے ، نیز جو بھی چیز زمین سے اوپر لے جائی جاتی ہے ، وہ سدرۃ المنتہی پر جا کر منتہی ہو جاتی ہے اور پھر کسی واسطہ وذریعہ کے بغیر اوپر اٹھائی جاتی ہے ، اسی طرح جو چیز ملاء اعلی سے زمین پر اتاری جاتی ہے وہ بھی سدرۃ المنتہی پر جا کر منتہی سے لی جاتی ہے ۔ " اس کے بعد حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت پڑھی (اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) 53۔ النجم : 16) ( یعنی : اس وقت کہ ڈھانک لیا سدرہ کو جس چیز نے ڈھانک لیا ) اور کہا کہ " وہ چیز ( جس نے سدرہ کو ڈھانکا ہے سونے کے پتنگے ہیں ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی کہا کہ : شب معراج میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں
١ پانچ نمازوں کر فرضیت عطا ہوئی
٢ سورت بقرہ کی آخری آیتیں عنایت ہوئیں
٣ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے اس شخص کے گناہ کبیرہ کی معافی کا پروانہ عطا ہوا جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائے ۔ " (مسلم )

تشریح :
سدرۃ المنتہی چھٹے آسمان پر ہے " اس جملہ کے بارے میں بعض شارحین نے کہا ہے کہ یہ کسی راوی کا وہم ہے ، یعنی اصل میں حدیث میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو سدرۃ المنتہی کے ساتویں آسمان پر ہونے کا ذکر کیا تھا لیکن ان کے بعد کسی راوی نے غلط فہمی سے یا بھول کر چھٹے آسمان کا ذکر کر دیا ، چنانچہ تحقیقی بات یہی ہے کہ سدرۃ المنتہی ساتویں آسمان پر ہے ، اور جمہور راویوں نے یہی نقل کیا ہے ، قاضی نے کہا : یہی بات زیادہ صحیح ہے کہ سدرۃ المنتہی ساتویں آسمان پر ہے اور جمہور راویوں نے یہی نقل کیا ہے ، ایک اور بڑے محقق ومحدث خلیل نے کہا : سدرۃ المنتہی ساتویں آسمان پر ہے جو تمام آسمانوں اور جنت پر چھایا ہوا ہے ۔ امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ (اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس حدیث میں چھٹے آسمان کا ذکر کسی راوی کا وہم نہیں بلکہ روایت کے اصل الفاظ ہیں تو اس صورت میں ) اس روایت اور ان روایتوں کے درمیان کہ جن میں سدرۃ المنتہی کی جڑ چونکہ چھٹے آسمان میں ہے اس لئے اس کا چھٹے آسمان پر ہونا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس ( سدرۃ ) کا اصل ظہور اور شاخیں چونکہ ساتویں آسمان پر ہیں اس لئے زیادہ تر روایتوں میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ ساتویں آسمان پر ہے ۔
" ۔۔۔ وہ اسی سدرۃ المنتہی پر جا کر منتہی ہو جاتی ہے الخ ۔ " اس پوری عبارت کا مطلب یہ ہے کہ زمین سے بھی چیزیں یعنی بندوں کے اعمال اور ان کی روحیں فرشتوں کے ذریعہ اوپر جاتی ہیں وہ سب اس سدرۃ المنتہی پر جا کر ٹھہر جاتی ہیں ، اس کے آگے چونکہ فرشتوں کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے اس لئے یہاں سے وہ چیزیں فرشتوں کے واسطہ و ذریعہ کے بغیر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اوپر اٹھا لیتا ہے ، اسی طرح جو چیزیں بارگاہ قدس سے زمین پر نازل ہوتی ہیں جیسے اوامر و احکام الہٰی وہ سب اوپر سے آکر سدرۃ المنتہی پر ٹھہر جاتی ہیں اور وہاں متعین فرشتے ان چیزوں کے لئے ہیں اور نیچے تک پہنچاتے ہیں ۔ پس مخلوق کے علوم اور فرشتوں کے عروج کی آخری حد سدرۃ المنتہی ہی ہے ، اس کے آگے اور اوپر جانے کی اجازت مقرب ترین فرشتوں کو بھی نہیں ملتی ہے ، یہ صرف ہمارے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہیں جن کو سدرۃ المنتہی سے بھی آگے جانے کا شرف حاصل ہوا ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس " مقام " تک تشریف لے گئے جو مقام لکان سے ماوراء ہے ۔
" اس وقت کہ ڈھانک لیا سدرہ کو جس چیز نے ڈھانگ لیا ۔ " یہ آیت کریمہ اذ یغشی السدرۃ الخ کا ترجمہ ہے جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سدرۃ المنتہی کے ذکر کی مناسبت سے پڑھی ، گویا حق تعالیٰ نے بھی اس چیز کو مبہم ہی رکھا جس نے سدرۃ المنتہی کو ڈھانک رکھا ہے ، اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک ایسی چیز ہے جس کی حقیقت کنہ کوئی نہیں جان سکتا اور نہ کوئی یہ بتا سکتا کہ وہ چیز مقدار وتعداد میں کتنی ہے اور کیفیت وحیثیت کے اعتبار سے کیسی ہے ۔ نیز مبہم انداز بیان کا مقصد اس چیز کی عظمت اور کثرت کو بیان کرنا ہے اور سابق حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ لا ادری ماہیتہ ( میں نہیں جانتا وہ کیا چیز تھی ) سے بھی یہی مراد ہے ، نہ کہ واقعۃ علم وادراک کی نفی مراد ہے ۔ ایک اور روایت میں اسی سدرۃ المنتہی کے متعلق یہ آیا ہے کہ اس کے ہر پتہ پر فرشتہ کھڑا ہے جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول ہے اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ( اس کی شاخوں اور پتوں پر ) سبز رنگ کے پرندوں کا جھنڈا ہے ۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ وہ سبز رنگ کے پرندے دراصل انبیاء علیہم السلام اور اولیاء عظام کی روحیں ہیں ۔
" وہ چیز سونے کے پتنگے ہیں ۔ " حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا " اس چیز " کو سونے کے پتنگوں سے تعبیر کرنا اس کی حقیقت وماہیت بیان کرنے کے لئے نہیں کہ وہ چیز واقعتاً سونے کے پتنگے ہیں ، بلکہ یہ تو انہوں نے محض تشبیہ کے طور پر ذکر کیا ہے ، مطلب یہ کہ جو بے شمار فرشتے سدرۃ المنتہی پر متعین ومقرر ہیں ان کے پیروں کی چمک ایسا منظر پیش کرتی ہے جیسے سونے کے پتنگے ( پروانے ) پورے سدرہ کو ڈھانکے ہوئے ہوں ، نیز اس تعبیر میں " فراش " استعمال سدرہ پر نازل ہونے والے نور اقدس حق تعالیٰ کی تئیں ان فرشتوں کی شیفتگی وفریفتگی اور حیرانی وسرگردانی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ ایک روایت میں جراد من ذہب ( سونے کی ٹڈی ) کے الفاظ بھی آئے ہیں ۔ اور یہ بھی تمثیل وتشبیہ کے طور پر ہے کیونکہ جب ٹڈیاں کسی درخت پر ٹھہر جاتی ہیں تو اوپر سے پورا درخت ان کے نیچے چھپ کر رہ جاتا ہے ۔ اسی طرح کن ذہب کے الفاظ بھی چمک دمک سے کنایہ ہیں اور ہو سکتا ہے کہ الفاظ کے ظاہری وحقیقی معنی ہی مراد ہوں ، یعنی وہ پتنگے یا ٹڈیاں واقعۃ سونے کی ہوں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ۔
" شب معراج میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں ۔ " حقیقت یہ ہے کہ اس شب میں علم وعمل ، معرفت وحقائق ، اسرارو فیوض اور انوار وبرکات کی قسم ہے جو عظیم خزانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئے ان کی لا محدودیت حصر وشمار سے ماوراء ہے ، یہ تین چیزیں تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ بیان کی ہیں جو امت کے تعلق سے مخصوص شرف و کرامت رکھتی ہیں اور ان کی خاص اہمیت کے اعتبار سے ان کا ذکر کیا جانا ضروری بھی تھا ۔
سورت بقرہ کی آخری آیتیں عنایت ہوئیں ۔ " میں امن الرسول سے آخری سورت تک کی دونوں آیتیں مراد ہیں اور شب معراج میں ان آیتوں کے عطا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبولیت کا پروانہ عطا فرمایا جو ان آیتوں میں مذکور ہیں ۔ پس یہ پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اچانک اپنے اوپر ( دروازہ کھلنے کی سی ) ایک آواز سنی، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا اور پھر کہا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو زمین پر آیا ہے اور آج سے پہلے کبھی یہ زمین پر نہیں آیا تھا ، اس کے بعد اس نو وارد فرشتہ نے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ) سلام کیا اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک ہو ( میں یہ خوشخبری لے کر آیا ہوں ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دو نور عطا کئے گئے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی اور نبی کو عطا نہیں ہوئے ، ایک تو فاتحۃ الکتاب یعنی سورت فاتحہ اور دوسرا سورت بقرہ کی آخری آیتیں ، آپ ان دونوں میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے اس کے عوض ( اجر وثواب یا اس میں مذکور دعا کی قبولیت سے ) نوازے جائیں گے ، گویا شب معراج میں ان آیتوں کا دیا جانا ان عطایا الٰہی میں کا ایک حصہ تھا جن سے اس اہم موقع پر اور اس رفیع الشان مقام یعنی بارگاہ کبریائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرفراز فرمایا گیا اور جس کی ایک یاد گار نماز پنجگانہ ہے، اور مسلم وغیرہ کی اس روایت میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا ماحصل یہ ہے کہ فرشتے کا آسمان سے اترنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں عطا شدہ ان آیتوں کی اہمیت وفضیلت کو ظاہر کرنے اور یہ بشارت دینے کے لئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو یہ سب سے بڑی چیز عطا ہوئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی نبی کو عطا نہیں ہوئی ۔ اس صورت میں ان دونوں روایتوں کے درمیان کسی تضاد کا سوال یہ پیدا نہیں ہوتا، ہاں یہاں ایک یہ اشکال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ سورت بقرہ وہ سورت ہے جس کو " مدنی " کہا گیا ہے ( یعنی یہ سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے ) جب کہ معراج کا واقعہ ہجرت سے پہلے مکہ کی سکونت کے زمانہ کا ہے ، دوسرے لفظوں میں ، سورت بقرہ کی آیتوں کے شب معراج میں عطا ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ آیتیں مدنی نہیں ، بلکہ مکی ہیں ؟ اس کا جواب محدثین وشارحین نے یہ دیا ہے کہ سورت بقرہ کو مدنی اس اعتبار سے نہیں کہا گیا ہے کہ اول سے آخر تک اس کی تمام آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں ، بلکہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ ان دو آخری آیتوں کے علاوہ اور تمام آیتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں ۔
ابن ملک نے حسن، ابن سیرین اور مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورت بقرہ کی وحی حضرت جبرائیل علیہ السلام کے واسطہ کے بغیر شب معراج میں براہ راست خود عطا فرمائی تھی ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان حضرات کے نزدیک پوری سورت بقرہ مکی ہے ، تا ہم جمہور مفسرین اور محدثین کا قول یہی ہے کہ یہ پوری سورت مدنی ہے ، اور اس قول کی روشنی میں اس روایت کے اس مفہوم کو کہ سورت بقرہ کی آخری آیتیں شب معراج میں عطا ہوئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ آیتوں کے الفاظ ( غفرانک سے آخر تک میں جو دعا تلقین کی گئی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان آیتوں کے پڑھنے والوں کے حق میں اس دعا کی قبولیت کا پروانہ شب معراج میں عطا ہوا ۔
" اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے اس شخص کے گناہ کبیرہ کی معافی کا پروانہ عطا ہوا الخ " کا مطلب یہ ہے کہ شب معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے امت کی مغفرت کا وعدہ کیا گیا یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا ۔ بغیر عذاب کے بھی بخش دے گا خواہ وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہی کیوں نہ ہو ، لیکن شرط یہ ہے کہ اس نے شرک کا ارتکاب نہ کیا ہو ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء ۔
" اللہ تعالیٰ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سواہ ( اور گناہ ) جس کو بخش دے گا ۔"
پس حدیث کے اس جملہ سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کھلی معافی دے دی گئی ہے اور کسی بھی ایسے مؤمن وموحد کو عتاب وعذاب کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جو گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرے ، کیونکہ ان مؤمنین وموحدین کا عذاب میں مبتلا کیا جانا جو گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں ، نصوص شرعیہ اور اجماع امت سے ثابت ہے ۔ رہا یہ سوال کہ اگر گناہ کبیرہ کے مرتکب کی مغفرت کا تعلق مشیت الہٰی سے ہے تو پھر حدیث میں اس کا ذکر کیوں نہ کیا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ۔ مغفرت کا انحصار مشیت الہٰی پر ہونا چونکہ ایک کھلی ہوئی بات تھی جس کا علم پہلے ہی سب کو ہے اس لئے مشیت الہٰی کے ذکر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ۔ اور ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ لکھا ہے کہ " گناہ کبیرہ کی معافی " سے مراد یہ ہے کہ مؤمنین وموحدین میں سے کوئی بھی شخص دوزخ میں ہمیشہ نہیں رکھا جائے گا خواہ اس نے کتنے یہ گناہ کبیرہ کئے ہوں ، جب کہ مشرکین ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ۔ لیکن ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابن حجر کی اس بات پر تنقید کی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ اس صورت میں نہ تو اس امت کی کوئی خصوصیت باقی رہتی ہے اور نہ اس کے مرتبہ کی بلندی ظاہر ہوتی ہے ، لہٰذا یہ کہنا زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے کہ " معافی ومغفرت " سے مراد امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر افراد کو معافی ومغفرت کا پروانہ عطا ہوتا ہے یعنی دوسری امتوں کے مقابلہ میں یہ خصوصیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہی کو حاصل ہوگی کہ اس کے اکثر وبیشتر لوگ پروردگار کی خصوصی رحمت کے تحت بخش دئے جائیں گے اور انہیں عذاب دوزخ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، اور اسی اعتبار سے اس امت کو امت مرحومہ کہا گیا ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں