مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان ۔ حدیث 611

صحابہ کو برا بھلا کہنے والے کے بارہ میں شرعی حکم

راوی:

شرح مسلم میں لکھا ہے جاننا چاہئے کہ صحابہ کرام کو برا کہنا جرم ہے اور اکبر فواحش (سخت بڑے گنا ہوں ) میں سے ہے ہمارا اور جمہور علماء کا یہ مذہب ہے کہ جو کوئی صحابہ کو برا کہے اس کو سزا دی جائے اور بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ اس کو قتل کیا جائے ، اسی طرح کی بات طیبی نے بھی لکھی ہے اور قاضی عیاض نے کہا ہے کہ صحابہ میں سے کسی کو بھی برا کہنا گناہ کبیرہ ہے اور ہمارے بعض علماء نے صراحت کی ہے کہ جو شخص شیخین (یعنی ابوبکر وعمر ) کو برا کہے وہ مستوجب قتل ہے ۔ مشہور کتاب الاشباہ والنظائر کی کتاب السیر میں لکھا ہے جو بھی کافر اپنے کفر سے توبہ کرلے اس کے لئے دنیا وآخرت کے لئے معافی ہے۔ لیکن جو لوگ اس بناء پر کافر قرار پائے ہوں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہا تھا ، یا شیخین کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو برا کہا تھا یا سحر کاری کے مرتکب ہوئے تھے اور یا زندقہ میں مبتلا تھے ، اور پھر توبہ کرنے سے پہلے ان کو گرفتار کر لیا گیا ہو تو اب اگر وہ توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور ان کو معافی نہیں ملے گی اسی طرح صاحب اشباہ علامہ زین ابن نجیم نے یہ بھی کہا ہے کہ ، شیخین کو برا کہنا یا ان کو لعنت کرنا کفر ہے اور جو شخص حضرت علی کو شیخین پر فضیلت دے وہ مبتدع ہے ۔ اور مناقب کر دری میں لکھا ہے اگر وہ شخص (جو شیخین پر حضرت علی کی فضیلت کا قائل ہے) اور دونوں یعنی شیخین کی خلافت کا منکر بھی ہو تو اس کو کافر کہا جائے گا اسی طرح اگر وہ ان دونوں سے دلی بغض وعناد رکھے تو بھی اس کو کافر کہا جائے گا ۔ بایں سبب کہ اس نے ان ہستیوں سے قلبی بغض وعناد رکھا جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قلبی محبت تھی ، ہاں اگر (یہ صورت ہو کہ) کوئی شخص (نہ تو شیخین پر حضرت علی کی فضیلت کا قائل ہے نہ شیخین کی خلافت کا منکر ہے نہ ان دونوں بغض وعناد رکھتا ہے اور نہ ان کو برا کہتا ہے مگر (شیخین کی بہ نسبت حضرت علی کے تئیں زیادہ پسندیدگی وگرویدگی اور محبت رکھتا ہے ۔ تو وہ محض اس بناء پر ماخوذ نہیں ہوگا ۔ اس سلسلہ میں ان دونوں یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی تخصیص کی وجہ شاید یہ ہے کہ ان دونوں کی فضیلت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث جس مخصوص طور سے منقول ہیں اس طرح سے کسی اور صحابی کے بارے میں منقول نہیں ہیں جیسا کہ آگے آنے ایک علیحدہ باب میں منقول احادیث سے واضح ہوگا یا وجہ تخصیص یہ ہے کہ ان دونوں حضرات کی خلافت پر مسلمانوں کا مکمل اجماع تھا ان کی قیادت وسربراہی کو کسی طرف بھی چیلنج نہیں کیا گیا ان کے برخلاف حضرت عثمان ہوں یا حضرت علی اور یا حضرت معاویہ وغیرہ دوسرے خلفاء ان کی خلافت پر اس درجہ کا اجماع نہیں تھا بلکہ ان میں سے ہر ایک کے زمانے میں بغاوت وخروج کا عمل ظاہر ہوا ۔

یہ حدیث شیئر کریں