مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان ۔ حدیث 649

حضرت عمر سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور خواب

راوی:

وعن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : " بينا أنا نائم رأيتني على قليب عليها دلو ؟ فنزعت منها ما شاء الله ثم أخذها ابن أبي قحافة فنزع منها ذنوبا أو ذنوبين وفي نزعه ضعف والله يغفر له ضعفه ثم استحالت غربا فأخذها ابن الخطاب فلم أر عبقريا من الناس ينزع نزع عمر حتى ضرب الناس بعطن " وفي رواية ابن عمر قال : " ثم أخذها ابن الخطاب من يد أبي بكر فاستحالت في يده غربا فلم أر عبقريا يفري فريه حتى روي الناس وضربوا بعطن " . متفق عليه

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا " میں سورہا تھا کہ (خواب میں ) میں دیکھا میں ایک بغیر من کے کنویں پر ہوں جہاں ایک ڈول بھی رکھا ہوا ہے میں نے (ڈول کے ذریعہ ) اس کنویں سے پانی کھینچا جس قدر کہ اللہ نے چاہا ، میرے بعد ابن ابوقحافہ یعنی ابوبکر نے ڈول سنبھالا اور کنویں سے پانی کھینچنے لگے لیکن وہ ایک یا دو ڈول سے زائد پانی نہیں کھینچ سکے ، دراصل پانی کھینچنے میں وہ سست اور کمزور پڑ رہے تھے اور ان کی سستی وکمزوری کو اللہ تعالیٰ معاف کرے پھر وہ ڈول ایک چرس (یعنی بڑے ڈول ) میں تبدیل ہوگیا اور عمر ابن خطاب نے اس کو لے لیا ، حقیقت یہ ہے کہ میں نے کسی جوان اور قوی تر شخص کو ایسا نہیں پایا جو عمر کی طرح اس چرس کے ذریعہ پانی کھینچتا ہو ، چنانچہ (انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ نہ صرف تمام لوگ سیر اب ہوئے اور انہوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کیا بلکہ ) لوگوں نے (پانی کی فراوانی کے سبب ) اس جگہ کو اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ بنا لیا ۔ ابن عمر کی روایت میں یوں ہے کہ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے اس ڈول کو عمر ابن خطاب نے لے لیا ۔ جو ان کے ہاتھ میں پہنچ کر چرس بن گیا حقیقت یہ ہے کہ میں نے کسی جوان اور قوی تر شخص کو ایسا نہیں پایا جو پانی کھینچنے کے اس کام میں عمر کی طرح چاق وچوبند اور کار گزار ہو ، چنانچہ انہوں نے (اتنا پانی کھینچا کہ ) لوگوں کو سیراب کرڈالا اور (پانی کی فراوانی کے سبب ) لوگوں نے اس جگہ کو اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ بنا لیا ۔" (بخاری ومسلم )

تشریح :
قلیب : اس کنویں کو کہا جاتا ہے جس پر من یعنی منڈیر نہ بنی ہو، اس کے برخلاف جس کنویں پر پتھر اور اینٹ کی من بنی ہوتی ہے اس کے لئے طوی کا لفظ آتا ہے ۔علماء نے یہ نکتہ لکھا ہے کہ خواب میں طوی کے بجائے قلیب کانظر آنا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اہل دین کا عزم وحوصلہ حقیقی مطلوب ومراد پر موقوف ہوتا ہے ، نہ کہ اوپر بنے ہوئے قوالب پر ۔
" ایک یا دو ڈول سے زائد " یہاں راوی کو شک ہوا کہ آپ نے ذنوبا (ایک ڈول ) کا لفظ فرمایا تھا یا ذنوبین (دوڈول ) کا ، تاہم صحیح یہ ہے کہ یہاں اصل لفظ ذنوبین (ایک دوڈول ) ہے ۔ اس لفظ میں حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ خلافت کا اشارہ پوشیدہ ہے جو کچھ اوپر دو سال سے زائد نہیں ہوا ۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ذنوبا اور ذنوبین میں حرف او دراصل بل کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اس صورت میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ یہاں راوی اصل لفظ یاد رکھنے سے چوک گیا جس کی بناء پر اس نے اپنے شک کو ظاہر کرتے ہوئے دونوں لفظ نقل کردئے ۔
" وہ سست اور کمزور پڑ رہے تھے " ان الفاظ میں حضرت ابوبکر کے مرتبہ ومقام کی تنقیص نہیں ہے اور نہ الفاظ کا مقصد حضرت ابوبکر صدیق پر حضرت عمر کی فضیلت وبرتری کو ثابت کرنا ہے بلکہ اصل مقصد اس طرف اشارہ کرنا تھا کہ ابوبکر کا زمانہ امارت وخلافت بہت مختصر ہوگا جب کہ عمر کا زمانہ امارت وخلافت بہت طویل ہوگا ، اور اس زمانہ میں مخلوق اللہ کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا بعض شارحین نے " ضعف " کا ترجمہ " سستی اور کمزوری " کے بجائے نرمی ومروت " کیا ہے ۔
" اللہ تعالیٰ معاف کرے " اس دعائیہ جملہ کا بھی مقصد حضرت ابوبکر کی طرف گناہ اور تقصیر کی نسبت ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو محاورۃ زبان زد خاص وعام ہے جیسا کہ کسی شخص کا کوئی کام یا قول بیان کرتے ہوئے یوں کہہ دیا جائے ! اس نے یہ کام کیا یا یہ بات کہی اللہ اس کی مغفرت کرے ۔'
" اس جگہ کو اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ بنالیا " عطن اصل میں اس جگہ کو کہا جاتا تھا جہاں پانی جمع ہوتا تھا اور اس کے ارد گرد اونٹ بیٹھا کرتے تھے ، واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب میں مختلف چیزوں کی طرف اشارہ تھا یعنی کنواں دین کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جس طرح " کنواں " اس پانی کا منبع ہے جو دنیاوی زندگی کی حیات وبقاء کا بنیادی وسیلہ اور ہرجاندار کے کے معاش ومعیشت کی اساس ہے ، اسی طرح دین بھی ان حقائق کا سرچشمہ ہے جن پر انسانیت کی حیات وبقاء کا انحصار ہے اور جو انسان کی تہذیبی فکری اور روحانی اقدار کی بنیاد ہیں ۔ کنویں سے پانی کھینچنا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ دین کی زمام کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوبکر کو اور ان سے حضرت عمر کو منتقل ہوگی ، حضرت ابوبکر کا کنویں سے ایک یا دو ڈول کھینچنا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کا زمانہ خلافت بہت قلیل ہوگا ، یعنی دین اور اس کے توسط سے ملت کی قیادت وزمام کار ان کے ہاتھوں میں ایک سال یا دو سال رہے گی ، اور پھر حضرت عمر کو منتقل ہوجائے گی جن کی مدت خلافت حضرت ابوبکر کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہوگی چنانچہ حضرت عمر دس سال تین ماہ خلیفہ رہے ۔ پانی کھینچنے میں حضرت ابوبکر کا سست وکمزور پڑنا یا تو اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کے زمانہ خلافت میں دین کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی جیسا کہ بعض عرب قبائل کے ارتداد کی صورت میں اضطراب واختلاف کی سی کیفیت پیدا ہوئی ۔ یا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابوبکر چونکہ فطرتا نرم مزاج ، بردبار اور بامروت واقع ہوئے ہیں اس لئے ملکی حکومتی معاملات میں رعب ودبدبہ سے زیادہ کام نہیں لینگے ، اس کی تائید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد : ان اللہ یغفرلہ ضعفہ (ان کی سستی وکمزوری کو اللہ تعالیٰ معاف کرے ) سے ہوتی ہے تاہم یہ جملہ دعائیہ معترضہ ہے جس کا مقصد یہ واضح کردینا ہے کہ ان کی یہ سستی وکمزوری یا نرمی ومروت ایسی چیز ہے جو اللہ کے نزدیک قابل عفودرگزر ہے ۔ اور جس سے ان کے مرتبہ و مقام پر ذرا بھی فرق نہیں پڑتا، اور ڈول کا حضرت عمر کے ہاتھ تک پہنچ کر چرس بن جانا، اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ دین کو چار دانگ عالم میں پھیلانے، بڑھانے ، اور مضبوط کرنے میں ایسی سعی و کوشش کریں گے جس کا اتفاق نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی اور کو حاصل ہوگا ، امام نووی نے لکھا ہے : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد : " میں نے اس کنویں سے پانی کھینچا جس قدر اللہ نے چاہا اور میرے بعد میرے بعد ابن ابوقحافہ یعنی ابوبکر نے ڈول سنبھالا " اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر کی خلافت ونیابت اور اس دنیا سے رخصت ہوجانے کی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کے رنج وآلام اور شدائد وتکالیف سے راحت پانے کی طرف اشارہ ہے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد : پھر اس ڈول کو ابوبکر کے ہاتھ سے عمر بن خطاب نے لے لیا ، اور لوگوں نے اس جگہ کو اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ بنا لیا میں اس طرف اشارہ ہے کہ مرتدوں کی سرکوبی اور اہل اسلام کو مجتمع رکھنے کی صورت میں دین کو مضبوط رکھنے اور فتوحات اسلام کی جو ابتداء حضرت ابوبکر نے کی وہ حضرت عمر کے زمانہ میں اپنے ثمرات کے ساتھ عروج پر پہنچ گئی ، اور ایک شارح نے لکھا ہے : حضرت عمر اتنا زیادہ پانی کھینچنا اس طرف اشارہ کرتا تھا کہ ان کا زمانہ خلافت ، ہر خاص وعام اور ہر چھوٹے بڑے کے لئے دینی ودنیاوی فوائد ومصالح سے بھر پور ہوگا ۔

یہ حدیث شیئر کریں