مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ عشرہ مبشرہ کے مناقب کا بیان ۔ حدیث 738

حضرت زبیر

راوی:

حضرت زبیر عوام کے بیٹے اور ابوعبداللہ قرشی کی کنیت سے مشہور ہیں ۔ ان کی والدہ حضرت صفیہ بنت عبد المطلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پھوپھی تھیں ، زبیربن العوام قدیم الاسلام ہیں یعنی ابتداء ہی میں اسلام کی دولت سے بہرہ مند ہوگئے تھے اور اس وقت سولہ سال کے تھے ۔ اس چھوٹی سی عمر میں جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے چچا نے ان پر بڑے ظلم ڈھائے یہاں تک کہ ان کو دھوئیں میں بند کردیا گیا تاکہ اس عذاب سے گھبرا کر اسلام ترک کردیں لیکن انہوں نے نہایت استقامت کے ساتھ اس سخت عذاب کو برداشت کیا اور اسلام سے پھیرے نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک ہوئم اور سب سے پہلے اسلام کی راہ میں تلوار کھینچنے والے یہی زبیر بن العوام تھے ۔غزوہ احد کے دن بڑے استقلال اور ثابت قدمی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہے اور شجاعت وجانثاری کے جوہر دکھائے ۔ حضرت زبیر طویل قامت قدرے نحیف الجثہ اور گورے رنگ کے تھے ۔٣٦ھ میں جنگ صفین سے واپسی پر راستہ ہی میں بصرہ کے علاقہ میں سفوان پر عمر و بن جرموز نے ان کو شہید کر دیا ، اس وقت ان کی عمر ٦٤ سال کی تھی وادی اسباع میں دفن کئے گئے پھر نعش مبارک بصرہ منتقل کردی گئی اور مشہور ہے کہ ان کی قبر وہیں (بصرہ ) میں ہے ۔

یہ حدیث شیئر کریں