مشکوۃ شریف ۔ جلد پنجم ۔ اہل بدر میں سے ان صحابہ کے ناموں کا ذکر جو جامع بخاری میں مذکور ہیں ۔ حدیث 920

علی کرم اللہ وجہہ

راوی:

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد ہیں ، اور نہ صرف اس اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی ہیں ، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے ساتھ بھائی چارہ بھی ہوا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے خاوند ہیں ، حسن اور حسین کے باپ ہیں اور پہلے شخص ہیں جو باپ کی طرف سے بھی ہاشمی ہیں اور ماں کی طرف سے بھی ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو قدیم الاسلام ہونے کا بھی شرف حاصل ہے اور ایک بڑی جماعت کے بقول صحابہ میں سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں علماء نے لکھا ہے کہ پیر (دوشنبہ ) کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت سے سرفراز ہوئے اور اگلے ہی دن یعنی منگل کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسلام قبول کرلیا اس وقت ان کی عمر تین سال تھی اور بعض روایتوں کے مطابق سات سال کی تھی ۔ اسلام میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے جو بہت سارے لقب ہیں ان میں سے ہیں ، امین شریف ، ہادی، مہدی یعسوب المسلمین ، ابوالریجانین ، اور ابوتراب ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ میانہ قد تھے ، رنگ گندم گوں مائل بسرخی تھا ، کشادہ دہن چہرہ ایسا روشن وتاباں جیسے چودھویں کا چاند آنکھیں بڑی بڑی اور نہایت سیاہ داڑھی بہت زیادہ گھنی ، پیٹ نکلا ہوا جسم بھاری بھرکم ، یہ ہے سراپا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا سیدنا علی کرم اللہ وجہہ علم و معرفت اور عقل ودانائی میں اپنی صف کے یکتا ، زہد وتقوی کے پیکر ، سخی النفس ، قوی دل اور نہایت بہادر وشجاع تھے ، " منصور " بھی تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد ان کو حاصل ہوتی تھی اور ہر مہم میں فتح یاب ہوتے تھے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت ہے کہ غزوہ بدر کے دن علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نیزہ لیا تھا ، اور ایک روایت میں آیا ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ نے غزوہ بدر میں اور دوسرے غزوات میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نیزہ لیا تھا ۔
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اسلام کے چوتھے خلیفہ ارشد ہیں ، ان کی خلافت کا زمانہ پانچ سال رہا اور ٤١ھ میں سترہویں رمضان کو شب جمعہ میں بوقت سحر شہید ہوئے ، صحیح ومختار قول کے مطابق ان کی عمر ٦٣سال کی ہوئی ۔ رضی اللہ عنہ ۔

یہ حدیث شیئر کریں