صحیح بخاری ۔ جلد اول ۔ علم کا بیان ۔ حدیث 70

ارشاد نبوی کہ بسا اوقات وہ شخص جسے (حدیث) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے

راوی: مسدد , بشر , ابن عون , ابن سیرین , عبد الرحمن بن ابی بکرہ ,

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَکَرَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَعَدَ عَلَی بَعِيرِهِ وَأَمْسَکَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ بِزِمَامِهِ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا فَسَکَتْنَا حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَی اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَی قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا فَسَکَتْنَا حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَی قَالَ فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ بَيْنَکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا لِيُبَلِّغ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَی أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَی لَهُ مِنْهُ

مسدد، بشر ، ابن عون، ابن سیرین، عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرنے لگے کہ آپ اپنے اونٹ پر بیٹھے تھے اور ایک شخص اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھا، آپ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے؟ ہم لوگ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ عنقریب آپ اس کے (اصلی) نام کے سوا کچھ اور نام بتائیں گے، آپ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہاں، پھر پوچھا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے پھر سکوت کیا یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ شاید آپ اس کا نام دوسرا بتائیں گے، آپ نے فرمایا کہ کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم عرض کیا کہ ہاں، (اس کے بعد) آپ نے فرمایا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال آپس میں تمہارے لئے حرام ہیں، جیسے تمہارے اس دن میں، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں حرام (سمجھے) جاتے ہیں، چاہئے کہ حاضر غائب کو (یہ خبر) پہنچادے اس لئے کہ شاید حاضر ایسے شخص کو (یہ حدیث پہنچائے) جو اس سے زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو۔

Narrated 'Abdur Rahman bin Abi Bakra's father: Once the Prophet was riding his camel and a man was holding its rein. The Prophet asked, "What is the day today?" We kept quiet, thinking that he might give that day another name. He said, "Isn't it the day of Nahr (slaughtering of the animals of sacrifice)" We replied, "Yes." He further asked, "Which month is this?" We again kept quiet, thinking that he might give it another name. Then he said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We replied, "Yes." He said, "Verily! Your blood, property and honor are sacred to one another (i.e. Muslims) like the sanctity of this day of yours, in this month of yours and in this city of yours. It is incumbent upon those who are present to inform those who are absent because those who are absent might comprehend (what I have said) better than the present audience."

یہ حدیث شیئر کریں