صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ تفاسیر کا بیان ۔ حدیث 2156

باب (نیو انٹری)

راوی:

سُورَةُ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَقَالَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ فُجِّرَتْ فَاضَتْ وَقَرَأَ الْأَعْمَشُ وَعَاصِمٌ فَعَدَلَكَ بِالتَّخْفِيفِ وَقَرَأَهُ أَهْلُ الْحِجَازِ بِالتَّشْدِيدِ وَأَرَادَ مُعْتَدِلَ الْخَلْقِ وَمَنْ خَفَّفَ يَعْنِي فِي أَيِّ صُورَةٍ شَاءَ إِمَّا حَسَنٌ وَإِمَّا قَبِيحٌ أَوْ طَوِيلٌ أَوْ قَصِيرٌ

تفسیر سورہ ”اذاالسماءانفطرت“!
اور ربیع بن ختیم نے کہا کہ ”فجرت “بمعنے فاضت (پھوٹ کر بہنے لگے ) ہے اور اعمش اور عاصم نے ”فعدلک “کو تخفیف کے ساتھ پڑھاہے ‘ اور ہل حجاز نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ‘ اور اس سے مراد لیا ہے معتدل صورت والا ‘ اور جنہوں نے تخفیف کے ساتھ پڑھاہے ‘ وہ مراد لیتے ہیں کہ جس صورت میں چاہا خوبصورت ہویا بد صورت اور لمباہویا ٹھگنا ۔

یہ حدیث شیئر کریں