صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ حدیث 340

مال غنیمت میں سے تھوڑا سا لینے کا بیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نہیں کیا کہ آپ نے ایسے خیانت کرنے والے شخص کا مال و متاع سوختہ کرا دیا ہو اور یہی بیان صحیح ہے۔

راوی: علی سفیان عمرو سالم بن ابی الجعد عبداللہ بن عمر ما

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ کَانَ عَلَی ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ کِرْکِرَةُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ فِي النَّارِ فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَجَدُوا عَبَائَةً قَدْ غَلَّهَا قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ قَالَ ابْنُ سَلَامٍ کَرْکَرَةُ

علی سفیان عمرو سالم بن ابی الجعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ کر کرہ نامی ایک شخص رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسباب پر متعین تھا جب اس کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جہنمی ہے پھر لوگ اس کی تفتیش کرنے لگے تو انہوں نے اس کے سامان میں ایک عباء دیکھی جو اس نے خیانت کر کے مال غنیمت میں سے چھپا کر رکھ لی تھی ابوعبداللہ کا بیان ہے کہ ابن سلام نے کہا کہ کر کرہ کاف کے زبر سے ہے اور اسی طرح محفوظ ہے۔

Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
There was a man who looked after the family and the belongings of the Prophet and he was called Karkara. The man died and Allah's Apostle said, "He is in the '(Hell) Fire." The people then went to look at him and found in his place, a cloak he had stolen from the war booty.

یہ حدیث شیئر کریں