صحیح بخاری ۔ جلد دوم ۔ جہاد اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ حدیث 347

ذمی عورتوں اور نا فرمان مسلمان عورتوں کے بال دیکھنے اور ان کے ننگا کرنے کی ضرورت پر مجبور ہو جانے والے شخص کا بیان

راوی: محمدہشیم حصین سعد ابوعبدالرحمن عثمانی

حَدَّثَنِا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ الطَّائِفِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکَانَ عُثْمَانِيًّا فَقَالَ لِابْنِ عَطِيَّةَ وَکَانَ عَلَوِيًّا إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَکَ عَلَی الدِّمَائِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالزُّبَيْرَ فَقَالَ ائْتُوا رَوْضَةَ کَذَا وَتَجِدُونَ بِهَا امْرَأَةً أَعْطَاهَا حَاطِبٌ کِتَابًا فَأَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَقُلْنَا الْکِتَابَ قَالَتْ لَمْ يُعْطِنِي فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ أَوْ لَأُجَرِّدَنَّکِ فَأَخْرَجَتْ مِنْ حُجْزَتِهَا فَأَرْسَلَ إِلَی حَاطِبٍ فَقَالَ لَا تَعْجَلْ وَاللَّهِ مَا کَفَرْتُ وَلَا ازْدَدْتُ لِلْإِسْلَامِ إِلَّا حُبًّا وَلَمْ يَکُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِکَ إِلَّا وَلَهُ بِمَکَّةَ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَلَمْ يَکُنْ لِي أَحَدٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَهُ فَإِنَّهُ قَدْ نَافَقَ فَقَالَ مَا يُدْرِيکَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَی أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَهَذَا الَّذِي جَرَّأَهُ

محمد ہشیم حصین سعد ابوعبدالرحمن عثمانی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عطیہ علوی سے کہا میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جس چیز نے تمہارے پیر و مرشد کی خونریزی پر دلیر بنایا میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (علی) اور زبیر کو فلاں باغ میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں تم کو ایک عورت ملے گی جس کو حاطب نے ایک خط دیا ہے چنانچہ ہم اس باغ میں پہنچے اور اس عورت سے وہ خط مانگا تو اس عورت نے جواب دیا حاطب نے تو مجھے کوئی خط نہیں دیا ہے تو ہم نے اس سے کہا تو وہ خط نکال ورنہ ہم تم کو ننگا کردیں گے تب اس نے وہ خط اپنے جوڑے سے نکالا (جو ہم نے دربار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کیا) جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاطب کو طلب کیا (اور حاطب نے حاضر ہو کر عرض کیا) جلدی نہ کیجئے اللہ کی قسم! میں نے کوئی کفر نہیں کیا نیز اسلام میں کسی نئی چیز کی زیادتی بھی نہیں کی اور مجھے اسلام زیادہ محبوب ہے واقعہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کا کوئی عزیز مکہ میں نہ ہو اور جن سے اللہ ان کے اہل و عیال اور مال و اسباب کی حفاظت نہ کرتا ہو لیکن وہاں میرا کوئی نہیں اس لئے میں نے یہ چاہا کہ میں ان پر ایک احسان کروں (تاکہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرا سکوں) جس کی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تصدیق فرمائی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا حضور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دے دیجئے میں اس کی گردن مارے دیتا ہوں اس لئے کہ یہ منافق ہے تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کا حال جانتا ہے اور اس نے فرمایا اے بدر والو! تم جو چاہو کرو پس اس حکم نے انہیں جری اور دلیر بنا دیا ہے۔

Narrated Sad bin 'Ubaida:
Abu Abdur-Rahman who was one of the supporters of Uthman said to Abu Talha who was one of the supporters of Ali, "I perfectly know what encouraged your leader (i.e. 'Ali) to shed blood. I heard him saying: Once the Prophet sent me and Az-Zubair saying, 'Proceed to such-and-such Ar-Roudah (place) where you will find a lady whom Hatib has given a letter. So when we arrived at Ar-Roudah, we requested the lady to hand over the letter to us. She said, 'Hatib has not given me any letter.' We said to her. 'Take out the letter or else we will strip off your clothes.' So she took it out of her braid. So the Prophet sent for Hatib, (who came) and said, 'Don't hurry in judging me, for, by Allah, I have not become a disbeliever, and my love to Islam is increasing. (The reason for writing this letter was) that there is none of your companions but has relatives in Mecca who look after their families and property, while I have nobody there, so I wanted to do them some favor (so that they might look after my family and property).' The Prophet believed him. 'Umar said, 'Allow me to chop off his (i.e. Hatib's) neck as he has done hypocrisy.' The Prophet said, (to 'Umar), 'Who knows, perhaps Allah has looked at the warriors of Badr and said (to them), 'Do whatever you like, for I have forgiven you.' " 'Abdur-Rahman added, "So this is what encouraged him (i.e. Ali)."

یہ حدیث شیئر کریں