صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ ادب کا بیان ۔ حدیث 1166

آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیدا کیا گیا اور آسمان کی طرف کہ کس طرح بلند کئے گئے اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا ۔

راوی: ابن بکیر لیث عقیل ابن شہاب ابوسلمہ بن وعبدالرحمٰن جابر بن عبداللہ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْيُ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَائِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَی السَّمَائِ فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِي جَائَنِي بِحِرَائٍ قَاعِدٌ عَلَی کُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ

ابن بکیر لیث عقیل ابن شہاب ابوسلمہ بن وعبدالرحمٰن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہونا سنا کہ پھر مجھ پر وحی آنا رک گئی ایک بار میں جا رہا تھا تو میں نے آسمان سے ایک آواز سنی جب آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو وہی فرشتہ نظر آیا جو میرے پاس حراء میں آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔

Narrated Jabir bin 'Abdullah:
That he heard Allah's Apostle saying. "Then there was a pause in the revelation of the Divine Inspiration to me. Then while I was walking all of a sudden I heard a voice from the sky, and I raised my sight towards the sky and saw the same angel who had visited me in the cave of Hira,' sitting on a chair between the sky and the earth."

یہ حدیث شیئر کریں