صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1467

اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، نافع نے اس کو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔

راوی: یحیی بن بکیر , لیث , خالد , سعید بن ابی ہلال , زید بن اسلم , عطاء بن یسار , ابوسعید خدری

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَکُونُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُبْزَةً وَاحِدَةً يَتَکَفَّؤُهَا الْجَبَّارُ بِيَدِهِ کَمَا يَکْفَأُ أَحَدُکُمْ خُبْزَتَهُ فِي السَّفَرِ نُزُلًا لِأَهْلِ الْجَنَّةِ فَأَتَی رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَارَکَ الرَّحْمَنُ عَلَيْکَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلَا أُخْبِرُکَ بِنُزُلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ بَلَی قَالَ تَکُونُ الْأَرْضُ خُبْزَةً وَاحِدَةً کَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ثُمَّ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکَ بِإِدَامِهِمْ قَالَ إِدَامُهُمْ بَالَامٌ وَنُونٌ قَالُوا وَمَا هَذَا قَالَ ثَوْرٌ وَنُونٌ يَأْکُلُ مِنْ زَائِدَةِ کَبِدِهِمَا سَبْعُونَ أَلْفًا

یحیی بن بکیر، لیث، خالد، سعید بن ابی ہلال، زید بن اسلم، عطاء بنیسار ، ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین قیامت کے دن ایک روٹی کی طرح ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ہاتھ میں جنت والوں کی مہمانی کے لئے سمیٹ لے گا جس طرح تم میں سے ایک شخص سفر میں اپنی روٹی اپنے ہاتھ میں سمیٹ لیتا ہے، یہود میں سے ایک شخص آیا اور کہا اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ آپ پر برکت نازل فرمائے کیا میں قیامت کے دن اہل جنت کی دعوت کے متعلق آپ کو خبر نہ دوں! آپ نے فرمایا ہاں! اس نے کہا کہ زمین ایک روٹی کی طرح ہوجائے گی جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا اسی طرح اس نے کہا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا، پھر ہنسے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے پھر فرمایامیں تم کو ان کے سالن کے متعلق بتلاؤں!آپ نے فرمایا کہ ان کا سالن بالان و نون ہوگا، لوگوں نے عرض کیا یہ کیا چیز ہے! آپ نے فرمایا کہ بیل اور مچھلی جن کی کلیجی ستر ہزار آدمی کھائیں گے۔

Narrated Abu Said Al-Khudri:
The Prophet said, "The (planet of) earth will be a bread on the Day of Resurrection, and The resistible (Allah) will topple turn it with His Hand like anyone of you topple turns a bread with his hands while (preparing the bread) for a journey, and that bread will be the entertainment for the people of Paradise." A man from the Jews came (to the Prophet) and said, "May The Beneficent (Allah) bless you, O Abul Qasim! Shall I tell you of the entertainment of the people of Paradise on the Day of Resurrection?" The Prophet said, "Yes." The Jew said, "The earth will be a bread," as the Prophet had said. Thereupon the Prophet looked at us and smiled till his premolar tooth became visible. Then the Jew further said, "Shall I tell you of the udm (additional food taken with bread) they will have with the bread?" He added, "That will be Balam and Nun." The people asked, "What is that?" He said, "It is an ox and a fish, and seventy thousand people will eat of the caudate lobe (i.e. extra lobe) of their livers."

یہ حدیث شیئر کریں