صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1477

اللہ تعالیٰ کا قول کہ بے شک قیامت کا زلزلہ ایک بڑی چیز ہے ( اللہ تعالیٰ کا قول کہ) آنے والی آگئی ( اور) قریب آگئی قیامت

راوی: یو سف بن موسی , اعمش جریر , ابوصا لح , ابوسعید

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ قَالَ يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَذَاکَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَی النَّاسَ سَکْرَی وَمَا هُمْ بِسَکْرَی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا ذَلِکَ الرَّجُلُ قَالَ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا وَمِنْکُمْ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَکُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ مَثَلَکُمْ فِي الْأُمَمِ کَمَثَلِ الشَّعَرَةِ الْبَيْضَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ

یو سف بن موسی، اعمش جریر، ابوصا لح، ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے آدم! آدم علیہ السلام عرض کریں گے لبیک وسعدیک! خیرتیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لئے لوگوں کو نکال۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے، کس قدر! اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے (آپ فرماتے ہیں کہ) یہ وقت ہوگا کہ بچہ بوڑھا ہوجائے گا، اور ہر حمل والی اپنا حمل گرادے گی اور تم لوگوں کو غشی کی حالت میں پاؤ گے، حالانکہ وہ بیہوش نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ صحابہ کو یہ امر بہت گراں گزرا اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (وہ ایک آدمی) ہم میں سے کون ہوگا، آپ نے فرمایا تمہیں خوش خبری ہو کہ یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار، اور تم میں ایک فرد ہوگا، پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت کے تہائی ہو گے، ہم نے الحمد اللہ اور اللہ اکبر کہا پھر آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں امید کرتا ہوں کہ تم نصف اہل جنت ہو گے، دیگر امتوں کے اعتبار سے تمہاری مثال ایسی ہے، جیسے سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں یا سفید داغ جو گدھے کی اگلی ران میں ہوتا ہے۔

Narrated Abu Said:
The Prophet said, "Allah will say, 'O Adam!. Adam will reply, 'Labbaik and Sa'daik (I respond to Your Calls, I am obedient to Your orders), wal Khair fi Yadaik (and all the good is in Your Hands)!' Then Allah will say (to Adam), Bring out the people of the Fire.' Adam will say, 'What (how many) are the people of the Fire?' Allah will say, 'Out of every thousand (take out) nine-hundred and ninety-nine (persons).' At that time children will become hoary-headed and every pregnant female will drop her load (have an abortion) and you will see the people as if they were drunk, yet not drunk; But Allah's punishment will be very severe."
That news distressed the companions of the Prophet too much, and they said, "O Allah's Apostle! Who amongst us will be that man (the lucky one out of one-thousand who will be saved from the Fire)?" He said, "Have the good news that one-thousand will be from Gog and Magog, and the one (to be saved will be) from you." The Prophet added, "By Him in Whose Hand my soul is, I Hope that you (Muslims) will be one third of the people of Paradise." On that, we glorified and praised Allah and said, "Allahu Akbar." The Prophet then said, "By Him in Whose Hand my soul is, I hope that you will be one half of the people of Paradise, as your (Muslims) example in comparison to the other people (non-Muslims), is like that of a white hair on the skin of a black ox, or a round hairless spot on the foreleg of a donkey."

یہ حدیث شیئر کریں