صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1480

قیامت میں قصاص لئے جانے کا بیان اور اس کا نام حاقہ ہے اس لئے کہ اس دن تمام کاموں کا بدلہ دیا جائے گا حقہ اور حاقہ اور قارعہ اور غاشیہ اور صاخہ کے ایک ہی معنی ہیں، اور تغابن کے معنی ہیں، اہل جنت کا دوزخ والوں کو فراموش کر دینا ۔

راوی: عمر بن حفص , اعمش شقیق , عبداللہ

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ بِالدِّمَائِ

عمر بن حفص، اعمش شقیق، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Narrated 'Abdullah:
The Prophet said, "The cases which will be decided first (on the Day of Resurrection) will be the cases of blood-shedding. "

یہ حدیث شیئر کریں