صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1482

قیامت میں قصاص لئے جانے کا بیان اور اس کا نام حاقہ ہے اس لئے کہ اس دن تمام کاموں کا بدلہ دیا جائے گا حقہ اور حاقہ اور قارعہ اور غاشیہ اور کے ایک ہی معنی ہیں، اور تغابن کے معنی ہیں، اہل جنت کا دوزخ والوں کو فراموش کر دینا ۔

راوی: صلت بن محمد , یزید بن زریع

حَدَّثَنِي الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيِّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ فَيُحْبَسُونَ عَلَی قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ کَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّی إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَی بِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ کَانَ فِي الدُّنْيَا

صلت بن محمد، یزید بن زریع نے بیان کیا (ونزعنا مافی صدورھم من غل) سعید، قتادہ، ابوالمتو کل ناجی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ مومن دوزخ سے چھٹکارا پائیں گے تو ایک پل پر روک دیئے جائیں گے جو جنت اور جہنم کے درمیان ہوگا، تو ایک کو دوسرے سے بدلہ دلا دیا جائے گا جو انہوں نے ایک دوسرے پر دنیا میں مظالم کئے ہوں گے، یہاں تک کہ جب وہ پاک و صاف ہوجائیں گے، تو انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ہر شخص جنت میں اپنے گھر کو دنیا کے گھر سے زیادہ پہچانے گا۔

Narrated Abu Said Al-Khudri:
Allah's Apostle said, "The believers, after being saved from the (Hell) Fire, will be stopped at a bridge between Paradise and Hell and mutual retaliation will be established among them regarding wrongs they have committed in the world against one another. After they are cleansed and purified (through the retaliation), they will be admitted into Paradise; and by Him in Whose Hand Muhammad's soul is, everyone of them will know his dwelling in Paradise better than he knew his dwelling in this world."

یہ حدیث شیئر کریں