صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1487

جس کے حساب میں پوچھ گچھ کی گئی تو اس عذاب ہوگا ۔

راوی: عمر بن حفص , حفص , اعمش خیثمہ , عدی بن حاتم

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي خَيْثَمَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَيُکَلِّمُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ يَنْظُرُ فَلَا يَرَی شَيْئًا قُدَّامَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ قَالَ الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي عَمْرٌو عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثَلَاثًا حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ

عمر بن حفص، حفص، اعمش خیثمہ، عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر آدمی سے اللہ قیامت کے دن گفتگو فرمائے گا اس طرح کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا پھر وہ نظر اٹھائے گا تو اپنے آگے کچھ نہیں دیکھے گا، پھر اپنے سامنے نظر کرے گا، تو دوزخ اس کے سامنے آئے گی، اس لئے تم میں سے جو شخص آگ سے بچنا چاہے (تو وہ بچے) اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو، اعمش بواسطہ عمر خیثمہ، عدی بن حاتم، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ آگ سے بچو، پھر اپنا منہ پھیر لیا، اور فرمایا کہ آگ سے بچو، پھر آپ نے منہ پھیر لیا، تین بار ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کو دیکھ رہے ہیں، پھر فرمایا کہ آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو اور جس شخص کو یہ میسر نہ ہو، تو اچھی باتوں کو ذریعہ (آگ سے بچے)

Narrated 'Adi bin Hatim:
The Prophet said, "There will be none among you but will be talked to by Allah on the Day of Resurrection, without there being an interpreter between him and Him (Allah) . He will look and see nothing ahead of him, and then he will look (again for the second time) in front of him, and the (Hell) Fire will confront him. So, whoever among you can save himself from the Fire, should do so even with one half of a date (to give in charity)."

یہ حدیث شیئر کریں