صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1500

جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔

راوی: عبداللہ بن مسلمہ , عبد العزیز , اپنے والد سے وہ سہل

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَائَوْنَ الْغُرَفَ فِي الْجَنَّةِ کَمَا تَتَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ فِي السَّمَائِ قَالَ أَبِي فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يُحَدِّثُ وَيَزِيدُ فِيهِ کَمَا تَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ الشَّرْقِيِّ وَالْغَرْبِيِّ

عبداللہ بن مسلمہ، عبد العزیز اپنے والد سے وہ سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور سہل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جنت والے جنت میں بالاخانہ والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہو، میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے نعمان بن ابی عیاش سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا، کہ میں نے ابوسعید کو بیان کرتے ہوئے سنا، اور اتنا زیادہ بیان کیا، کہ جس طرح تم ڈوبنے والے ستارے کو مشرقی اور مغربی افق پر دیکھتے ہو۔

Narrated Sahl:
The Prophet said, "The people of Paradise will see the Ghuraf (special abodes) in Paradise as you see a star in the sky." Abu Said added: "As you see a glittering star remaining in the eastern horizon and the western horizon."

یہ حدیث شیئر کریں