جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔
راوی: ابو النعمان , حماد , عمر و , جابر
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ بِالشَّفَاعَةِ کَأَنَّهُمْ الثَّعَارِيرُ قُلْتُ مَا الثَّعَارِيرُ قَالَ الضَّغَابِيسُ وَکَانَ قَدْ سَقَطَ فَمُهُ فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَبَا مُحَمَّدٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ بِالشَّفَاعَةِ مِنْ النَّارِ قَالَ نَعَمْ
ابو النعمان، حماد، عمرو، جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شفاعت کے ذریعہ کچھ لوگ دوزخ سے نکلیں گے، اس طرح کہ وہ ثعاریر ہوں گے۔ میں نے پوچھا ثعاریر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ضغابیس ہے، ان کے منہ جھڑ گئے ہوں گے، حماد کا بیان ہے کہ میں نے عمرو بن دینا سے پوچھا کیا آپ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لوگ شفاعت کے ذریعہ دوزخ سے نکلیں گے، انہوں نے کہا ہاں!۔
Narrated Hammad from 'Amr from Jabir:
The Prophet said, "Some people will come out of the Fire through intercession looking like The Thaarir." I asked 'Amr, "What is the Thaarir?" He said, Ad Daghabis, and at that time he was toothless. Hammad added: I said to 'Amr bin Dinar, "O Abu Muhammad! Did you hear Jabir bin 'Abdullah saying, 'I heard the Prophet saying: 'Some people will come out of the Fire through intercession?" He said, "Yes. "
