صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ۔ حدیث 1509

جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان، ابوسعید نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی سب سے پہلے کھا نا جو کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ۔ عدن کے معنی ہیں ہمیشہ رہنا، عدنت بارض کے معنی ہیں مکین نے اس زمین میں قیام کیا، مقعد صدق میں، معدن اسی سے ماخوذہے، یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ ۔

راوی: مسدد , ابوعوانہ , قتادہ , انس

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَی رَبِّنَا حَتَّی يُرِيحَنَا مِنْ مَکَانِنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَکَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيکَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِکَةَ فَسَجَدُوا لَکَ فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّنَا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ وَيَقُولُ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلًا فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ وَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ ائْتُوا مُوسَی الَّذِي کَلَّمَهُ اللَّهُ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ فَيَذْکُرُ خَطِيئَتَهُ ائْتُوا عِيسَی فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاکُمْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَأْتُونِي فَأَسْتَأْذِنُ عَلَی رَبِّي فَإِذَا رَأَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ يُقَالُ لِي ارْفَعْ رَأْسَکَ سَلْ تُعْطَهْ وَقُلْ يُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِي ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا ثُمَّ أُخْرِجُهُمْ مِنْ النَّارِ وَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ فَأَقَعُ سَاجِدًا مِثْلَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ حَتَّی مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ وَکَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ عِنْدَ هَذَا أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ

مسدد، ابوعوانہ، قتادہ، انس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا تو لوگ کہیں گے کہ کاش کوئی ہماری شفاعت اللہ کے دربار میں کرتا، تاکہ ہم اپنی اس جگہ سے نجات پاتے چنانچہ وہ لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے کہ آپ کو اللہ نے اہنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا چنانچہ انہوں نے آپ کو سجدہ کیا تو آپ ہمارے پروردگار کی جناب میں ہماری سفارش کریں، آدم علیہ السلام فرمائیں گے میں اس لائق نہیں اور اپنی غلطی کا ذکر کریں گے اور فرمائیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ سب سے پہلے رسول ہیں جن کو اللہ نے مبعوث کیا، چنانچہ لوگ ان کے پاس آئیں گے تو وہ اپنی غلطی کا ذکر کرکے فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں، تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جن کو اللہ نے خلیل بنایا، چنانچہ لوگ ان کے پاس آئیں گے تو وہ اپنی غلطی کا ذکر کرکے فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے کلام فرمایا: لوگ ان کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے میں آج اس قابل نہیں اور اپنی غلطی کا ذکر کرکے فرمائیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ فرمائیں گے میں آج اس قابل نہیں تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ جن کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے گئے ہیں تو لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں اپنے پروردگار سے اجازت طلب کروں گا جب میں اللہ کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا جب تک اللہ چاہیے گا مجھ کو (اسی حالت میں) چھوڑ دے گا، پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ، مانگو تمہیں دیا جائے گا اور کہو سنا جائے گا اور شفاعت کرو قبول کی جائے گی، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اپنے پروردگار کی حمد بیان کروں گا جو اللہ مجھ کو سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو اللہ میرے لئے حد مقرر فرمائے گا، پھر میں ان کو دوزخ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا، پھر میں لوٹ کر آؤں گا اور سجدے میں اسی طرح گر پڑوں گا، تیسری یا چوتھی بار اسی طرح کروں گا، بجز اس کے جس کو قرآن نے روک رکھا ہوگا، اور قتادہ اس کی تفسیر بیان کرتے تھے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے ہمیشہ رہنے کا حکم (قرآن میں) بیان کیا گیا ہے۔

Narrated Anas:
Allah's Apostle said, "Allah will gather all the people on the Day of Resurrection and they will say, 'Let us request someone to intercede for us with our Lord so that He may relieve us from this place of ours.' Then they will go to Adam and say, 'You are the one whom Allah created with His Own Hands, and breathed in you of His soul, and ordered the angels to prostrate to you; so please intercede for us with our Lord.' Adam will reply, 'I am not fit for this undertaking, and will remember his sin, and will say, 'Go to Noah, the first Apostle sent by Allah' They will go to him and he will say, 'I am not fit for this undertaking', and will remember his sin and say, 'Go to Abraham whom Allah took as a Khalil. They will go to him (and request similarly). He will reply, 'I am not fit for this undertaking,' and will remember his sin and say, 'Go to Moses to whom Allah spoke directly.' They will go to Moses and he will say, 'I am not fit for this undertaking,' and will remember his sin and say, 'Go to Jesus.' They will go to him, and he will say, 'I am not fit for this undertaking, go to Muhammad as Allah has forgiven his past and future sins.' They will come to me and I will ask my Lord's permission, and when I see Him, I will fall down in prostration to Him, and He will leave me in that state as long as (He) Allah will, and then I will be addressed. 'Raise up your head (O Muhammad)! Ask, and your request will be granted, and say, and your saying will be listened to; intercede, and your intercession will be accepted.' Then I will raise my head, and I will glorify and praise my Lord with a saying(i.e. invocation) He will teach me, and then I will intercede, Allah will fix a limit for me (i.e., certain type of people for whom I may intercede), and I will take them out of the (Hell) Fire and let them enter Paradise. Then I will come back (to Allah) and fall in prostration, and will do the same for the third and fourth times till no-one remains in the (Hell) Fire except those whom the Qur'an has imprisoned therein." (The sub-narrator, Qatada used to say at that point, "…those upon whom eternity (in Hell) has been imposed.") (See Hadith No. 3, Vol 6).

یہ حدیث شیئر کریں