صحیح بخاری ۔ جلد سوم ۔ حدود اور حدود سے بچنے کا بیان ۔ حدیث 1733

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالی کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نےچوری کی تھی اور اس کابایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

راوی: یوسف بن موسیٰ , ابواسامہ , ہشام بن عروہ , عروہ عائشہ

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَدْنَی مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ تُرْسٍ أَوْ حَجَفَةٍ وَکَانَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذَا ثَمَنٍ رَوَاهُ وَکِيعٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا

یوسف بن موسی، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں حجفہ یا ڈھال کی قیمت سے کم میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا اور ان دونوں میں سے ہر ایک قیمت والی تھی۔

Narrated 'Aisha:
A thief's hand was not cut off for stealing something worth less than the price of a shield, whether a Turs or Hajafa (two kinds of shields), each of which was worth a (respectable) price.

یہ حدیث شیئر کریں